اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہاہے کہ فخر ہے نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، میرے دامن پر کوئی داغ یا دھبہ نہیں ہے، منتخب وزیر اعظم کو نکالنے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے ٗ کیا احتساب صرف ایک آدمی اور اس کے خاندان کا ہونا چاہیے ؟کیا باقی سب صادق اور امین ہیں ؟اگر پیسہ ہی مطمع نظر ہوتا تو ایٹمی دھماکوں کے وقت صدرکلنٹن کی طرف سے کی گئی پانچ ارب ڈالر کی پیشکش قبول کرلیتا ٗپاکستان میں آئین اور قانون کی پاسداری ہونی چاہیے

ADVERTISEMENT
Ad
ٗ نظریاتی انسان ہوں ٗ نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا نہ ہی کرونگا ،نظریے کے حصول کے لیے پوری زندگی کی قربانی دینے کو تیار ہوں۔مجھے اپنی ذات کی پرواہ نہیں عوام کی پرواہ ہے جس وجہ سے مجھے نا اہل قرار دیا گیا وہ میری سمجھ سے بالا تر ہے ٗ جب میں نے تنخواہ لی ہی نہیں تو اسے ظاہر کیسے کرتا،حالات نے نظریاتی بنادیا اور اب بھی آخری وقت تک مورچے پر کھڑا رہوں گا ٗ فیصلے پر اختلاف کرنا میرا حق ہے ٗ ایک دوسرے کو گریبان سے پکڑ کر جیلوں میں بھیج کر ملک نہیں چلائے جا سکتے۔ہفتہ کو مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ میں کرپشن کی وجہ سے نااہل نہیں ہوا، فخر ہے نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، قوم کو پتہ چل رہا ہے کہ ڈس کوالیفیکیشن کیوں ہوئی آپ کو فخر ہونا چاہئے کہ آپ کے پارٹی سربراہ کا دامن صاف ہے، انہوں نے کہا کہ میرے دامن پر کوئی داغ یا دھبہ نہیں ہے، کوئی کِک بیکس یا کمیشن نہیں لیا۔انہوں نے نااہلی قرار دینے کی وجہ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وجہ سے مجھے نااہل قرار دیا گیا وہ میری سمجھ سے بالاتر ہے، جب میں نے تنخواہ لی ہی نہیں تو اسے ظاہر کیسے کرتا، یہاں جب آپ کچھ لے لیں تو بھی مسئلہ اور نہ لے تو بھی مسئلہ ہے، میں اپنے ہر اثاثے پر ٹیکس دیتا ہوں ، ہر اثاثے اور ذرائع آمدن کو ڈی کلیئر کیا ہوا ہے،تین نسلوں کے حساب سے ملا کیا، ایک اقامہ جو ذرائع آمدن ہی نہیں اسے ڈی کلیئر کیسے کرتا، انہوں نے کہا کہ یہاں جیبیں بھری ہوئی ہیں اور ڈی کلیئر نہیں کرتے یہ کیا ہو رہا ہے، عوام کو فیصلہ کرنا ہے ملک کو واپس کس سمت میں لے جایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی 3 نسلوں کا حساب دیا لیکن کیا صرف میرے خاندان کا حساب ہونا چاہیے؟ کیا ملک میں باقی سب صادق اور امین ہیں؟انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ نو وارد سیاستدانوں نے الزامات اور تہمتوں کی حد کردی ٗیہ نو وارد سیاستدان اب خود الزامات میں گھرے ہوئے ہیں، کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں مستعفی ہوجاؤں لیکن میں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا بستر ہے ٗمیرا ضمیر صاف ہے، اگر ضمیر ملامت کرتا کوئی خورد برد یا خیانت کی ہوتی تو خود استعفیٰ دے دیتا۔انہوں نے کہاکہ قوم نے ہمیشہ بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ٗیہ کیا ہو رہا ہے؟ عوام کو فیصلہ کرنا ہے، میں ذہنی طور پر کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں،نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، نظریے کے حصول کے لیے پوری زندگی کی قربانی دینے کو تیار ہوں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کٹھن سے کٹھن وقت دیکھا ہے، میرے خلاف ہائی جیکنگ کا کیس بنا کر مجھے ہائی جیکر بنادیا گیا، لوگوں نے کہا کہ آپ کو اس کیس میں سزائے موت سنائی جائے گی لیکن اللہ نے اس وقت بھی سرخرو کیا، میں آج سے 20، 25 سال پہلے نظریاتی نہیں تھا لیکن حالات نے نظریاتی بنادیا اور اب بھی آخری وقت تک مورچے پر کھڑا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ انسان جب ملک سے باہر ہوتا ہے تو سوچتا ہے کہ میں نے ملک کی خدمت کی ہے ٗ اگر پیسا ہی مطمع نظر ہوتا اور نیت خراب ہوتی تو مجھے ایٹمی دھماکوں کے وقت صدر کلنٹن کی طرف سے 5ارب ڈالر کی جو پیشکش ہوئی تھی قبول کرلیتا، لیکن اس وقت ملک کی عزت کا معاملہ تھا ،میں نے اس ملک کے ایٹمی پروگرام کے بٹن پر ہاتھ رکھا، ایسے وزیر اعظم کے ساتھ یہ کر رہے ہیں جس نے پاکستان کو اقتصادی ترقی دی،جب بھی موقع ملا ہمیشہ خلوص دل اور عزم سے اس ملک کی خدمت کی ہے اور اگر اس وجہ سے مجھے کوئی سزا ملی تو اس کا دکھ نہیں بلکہ فخر ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے ہمیں آئین و قانون کی پاسداری کرنا ہوگی، ہم نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ٗ بلوچستان بدل رہا ہے، روشن پاکستان طلوع ہو رہا ہے لیکن دھرنوں اور پاناما لیکس کے ذریعے قوم کا وقت ضائع کیا گیا ٗ ہمارے ملک کا حال افسوسناک نہیں ہونا چاہیے لیکن ملک اسی طرح چلتا رہا تو خدا نخواستہ کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔نواز شریف نے کہاکہ ماضی میں بھی (ن) لیگ کی حکومتیں مختلف طریقوں سے گرائی گئیں لیکن عوام نے ہمیشہ ان طریقوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ یہ کیا ہورہا ہے، اگر آپ کی فہم و فہراست تسلیم کرتی ہے تو میں مجرم ہوں، یہاں لوگوں کی جیبیں بھری ہوئی ہیں لیکن وہ ڈکلیئر نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ ہر آمدن اور اثاثے کو ڈکلیئر کیا ہے، اپنے ہراثاثے پر ٹیکس دیتا ہوں، ملک کو واپس کس سمت میں لے جایا جارہا ہے؟۔نواز شریف نے کہا کہ ترقی کا یہ پہیہ رکنا نہیں چاہیے، فیصلے پر اختلاف کرنا میرا حق ہے ٗ ایک دوسرے کو گریبان سے پکڑ کر جیلوں میں بھیج کر ملک نہیں چلائے جا سکتے، خیبرپختونخوا میں حکومت بنا سکتے تھے لیکن دوسروں کو موقع کیا، جائیں جاکر دیکھیں بلوچستان بدل رہا ہے ٗپہلا دھرنا، دوسرا دھرنا اور پھر پاناما کے باوجود اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو جدوجہد چاہتاہوں اس کا فائدہ 20 کروڑ عوام کو ملے جبکہ ہم نے پاکستان کو بدلنا ہے،خدا کی قسم اقتدار کے لالچ کی بات نہیں کررہا ۔انہوں نے کہا کہ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو رہی ہے ، روشنیاں واپس آرہی ہیں، اگر دھرنوں کی سیاست اور یہ منفی سیاست نہ ہوتی تو اب تک دہشت گردی کا قلع قمع ہو چکا ہوتا۔اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ میں رخصت ہو رہا ہوں میں نئے وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کا نام پیش کرتا ہوں جس پر اجلاس کے شرکاء نے تالیاں بجا کر اس کی بھرپور تائید کی ،نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہونا پڑے گا اس میں پچاس ،پچپن دن لگیں گے ، اس دوران عبوری عرصہ کیلئے میں نے شاہد خاقان عباسی کا نام تجویز کیا ہے جس پر شرکاء نے ایک بار پھر تالیاں بجا کر تائید کی، نواز شریف نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کو میں نے یہ بات بتائی تو انہوں نے جذباتی گفتگو کی لیکن میں ان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری بات مان لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں