لاس اینجلس: دنیا بھر میں ایڈونچر اور مہم جوئی سے بھرپور تصوراتی کہانی پر مشتمل سیریز ’’گیم آف تھرونز‘‘ کے شائقین دنیا بھر کے ساتھ پاکستان میں بھی پائے جاتے ہیں ،پاکستانی شائقین کی جانب سے اس کے ساتویں سیزن کی ابتدا پر چند مزاحیہ ٹویٹس کی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہا گر گیم آف تھرونز پاکستان میں بنتا تو کیسا ہوتا۔
جارج آر آر مارٹینز کے ناول ’’اے سانگ آف آئس اینڈ فائر‘‘ پر مشتمل ایڈوینچر سے بھرپور ڈراما ’’گیم آف تھرون‘‘ پہلی بار امریکا میں 2011 میں نشر کیاگیا تھا ، اس ڈرامے کی کہانی طاقت اور اقتدار کے حصول کی خاطر بااثر شخصیات کی جانب سے چلی جانے والی چالوں اور سازشوں کے گرد گھومتی ہے، گیم آف تھرونز کی کہانی بظاہر پاکستانی سیاست سے بہت حد تک ملتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اسے پاکستان میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔
’’گیم آف تھرونز‘‘ کے اب تک 6 سیزن پیش کیے جاچکے ہیں جنہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور اب اس کا ساتواں سیزن پیش کیا جارہا ہے، چھٹے سیزن میں ڈرامے کے اہم کردار’’جان سنو‘‘ کو قتل ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا تاہم نیا سیزن اسی کردار کی واپسی سے متعلق ہے یہ ہی وجہ ہے کہ گیم آف تھرونز کے ساتویں سیزن کا انتظار دنیا بھر کے شائقین سمیت پاکستانی شائقین بھی بے چینی سے کررہے تھے۔تاہم ساتواں سیزن منظر عام پر آتے ہی پاکستانی شائقین نے چند مزاحیہ اور دلچسپ ٹویٹس کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر گیم آف تھرونز اردو میں ہوتا تو کیسا ہوتا ۔
ایک صارف نے گیم آف تھرونز کو نواز شریف اور پاناما جے آئی ٹی سے جوڑتے ہوئے لکھا جج صاحب تھوڑا ہلکا ہاتھ رکھئے گامیرےچھوٹے چھوٹے بچے ہیں،نوازشریف۔


ایک صارف نے لکھا مہندی لگوائیں صرف 250 روپے میں۔


ایک صارف نے گیم آف تھرونز کے ایک کردار کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا رمضان آرہا ہے۔


ایک اور صارف نے ٹویٹ کی باجی بقایا پیسے تو لے لیں۔


ایک تصویر میں ڈرامے کے ایک سین کی تصویر کے ساتھ پیغام درج تھا یہ لیں ابو نماز پڑھ لیں۔


اس ٹوئیٹ نے تو تمام لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا ، اس میں گیم آف تھرونز کے زیادہ وزن والے ایک کردار کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا گیا ہے موٹے۔۔۔۔۔ پی گیا سارا روح افزا؟ کچھ گھر والوں کیلئے بھی چھوڑ دیا کرو۔


پاکستانی نوجوان کرکٹ خاص کر بیٹنگ کے دیوانے ہیں اور اکثر گلی محلوں میں کھیلی جانے والی کرکٹ پر اس بات پر لڑائی ہوجاتی ہے کہ پہلے بیٹنگ ہماری، یہاں بھی کچھ ایسا ہی لکھا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں