اسلام آباد(رئیس احمد خان)وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ کمپنی سے تنخواہ نہ لینا نوا ز شریف کا جرم بن گیا‘ یہ کیسا فیئر ٹرائل ہے جس کی اپیل بھی نہیں کی جا سکتی‘ اس فیصلے کے تحت جو بھی آئندہ وزیر اعظم بنے گا وہ کٹھ پتلی وزیر اعظم ہو گا ‘ کوئی و زیر اعظم بات ہی نہیں کر سکے گا ‘ یہ جج صاحبان جو بہت بنتے ہیں کیا انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا ‘ اگر وزیر اعظم صادق اورامین نہیں ہیں تو باقی لوگوں پربھی یہ بات آنی چاہیے ‘ بحیثیت وزیر اعظم نواز شریف کی میڈیا کے ذریعے تضحیک کی گئی ‘ ایک صاحب جن پر الزام ہے کہ وہ بغیر نکاح کے بچی کے باپ ہیں وہ 63, 62 پر پورا اترتے ہیں ؟‘ ہم جمہوری عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے ‘ جو کچھ ہوا وہ انصاف کیخلاف ہوا ‘ ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں۔ ہفتہ کو و زیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہمارا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے ‘ ہمیں خوشی ہے کہ نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہواا ‘ اس ملک صرف وزیر اعظم ہی ہیں جس کی گردن ماری جائے؟ اور کوئی نہیں ہے اس ملک میں؟ کوئی اور اختیار استعمال نہیں کرتا۔ اس فیصلے کے تحت جو بھی آئندہ وزیر اعظم بنے گا وہ کٹھ پتلی وزیر اعظم ہو گا۔ کوئی وزیر اعظم بات ہی نہیں کر سکے گا۔ ہر ادارے کا دائرہ اختیار آئین نے تعین کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی لیڈر عدالت سے تاحیات نااہل نہیں ہوتا۔2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی اور نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم پاکستان بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی سے تنخواہ نہ لینا نواز شریف کا جرم بن گیا۔ یہ کیسا فیئر ٹرائل ہے جس کی اپیل بھی نہیں کی جا سکتی۔ یہ جج صاحبان جو بہت بنتے ہیں کیا انہوں نے پی سیاو کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا۔ اگر وزیر اعظم صادق اور امین نہیں ہیں تو باقی لوگوں پر بھی یہ بات آنی چاہیے۔ ایک شخص ملک کو آگے لے جانا چاہتا ہے اور اس کو روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعظم نوا زشریف کی میڈیا کے ذریعے تضحیک کی گئی اور ان کے خاندان اور بیٹی کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انتہائی قابل اعتراض جملے کسے گئے۔ ایک صاحب ہیں جن پر الزام ہے کہ بغیر نکاح کے بچی کے باپ ہیںلاق فیڈریشن کے سربراہ ہیں دو بار طلاق دے چکے ہیں۔ وہ 63, 62 پر پورا اترتے ہیں۔ وہ کہہ رہا ہے میں علامہ اقبال کا پاکستان بنا رہاہوں۔ کیا جو اس پر الزام ہیں کیا یہی ہے علامہ اقبال کا خواب ۔ مجھے بحیثیت کشمیری سوچنا پڑے گا کہ میں کس ملک کے ساتھ اپنی قسمت کو جوڑ وں اگر یہی ہے قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان تو۔ انہوں نے کہاکہ اس میں فردوس عاشق اعوان ‘ نذر گوندل اور یہ سارے اترتے ہیں۔ جن پرالزام تھا ان کی کوئی بات سنی ہی نہیں گئی۔ ہم اس جمہوری عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے ۔ کل اس ملک میں ناکوئی حکومت تھی اور نہ کوئی نیشنل سیکیورٹی کا کوئی سربراہ موجود تھا۔ کل جو کچھ ہوا وہ انصاف کے خلاف ہوا۔ ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے وزیر اعظم چلے گئے میں بلاول سے پوچھنا چاہو ں گا کہ کیا این آر او میثاق جمہوریت کا حصہ تھا۔ انہوں نےکہاکہ وزیر اعظم پاکستان کو ہتھکڑیاں پہنا کر ہوائی جہاز میں بٹھایا گیا اس سے بڑی توہین کیا ہو سکتی ہے اس ملک کی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ملک میں وزیر اعظم تو بہت آئے لیکن لیڈر صرف دو آئے ہیں ۔ ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد دوسرا لیڈر نواز شریف آیا۔ ملک میں جب بھی سازش ہوئی پہلے لیڈر شپ کو نشانہ بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہمسلم ممالک کو پہلے لیڈر شپ سے محروم اور بعد میں تباہ کیا گیا۔ کرنل قذافی کو مارا گیا تو قوم ٹکروں میں بٹ گئی۔ شام اور مصر کو بھی لیڈروں سے محروم کیا گیا۔ عالمی سازش کے تحت مسلم ملکوں کو قیادت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ و زیر اعلیٰ نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کی ترقی میں عملی کوشش کی تیسری مرتبہ منتخب وزیر اعظم کو بھی ہٹایا گیا جس نے سی پیک بنایا وہ آج بھی ہمارا وزیر اعظم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میںنے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے باعث اکثریت حاصل کی ۔ گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں