اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غیر رسمی اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نیا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے قبل نواز شریف کی سربراہی میں 4 گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہواجس میں پاناما فیصلے کے بعد پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی اس فیصلے کی تائید کی ہے کہ شہبز شریف کو مستقل جبکہ شاہد خاقان عباسی کو قائم مقام وزیراعظم بنایا جائے جس کا اعلان کچھ ہی لمحوں میں نواز شریف کر دینگے۔ اس فیصلے کے بعد شہباز شریف کو اپنی پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینا ہوگا جبکہ پنجاب کے لیے نئے وزیراعلیٰ کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔شہباز شریف کو نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر الیکشن جیت کر قومی اسمبلی میں جانا ہوگا، تاہم جب تک شہباز شریف ایوان زیریں نہیں پہنچتے، تب تک قائم مقام وزیراعظم منتخب کیا جائے گاجس کیلئے شاہد خاقان عباسی کا نام فائنل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر برائے ایکسائز ایکڈ ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، شہباز شریف کی جگہ صوبے کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب کیے جائیں گے۔خیال کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں نواز شریف کی سربراہی میں یہ آخری اجلاس تھا جس میں سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کے قریبی ساتھی چوہدری نثار علی، احسن اقبال، ایاز صادق، سعد رفیق، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف موجود تھے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت سے سزا یافتہ کوئی شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا اس لیے نواز شریف وزارت عظمیٰ کے ساتھپارٹی کی صدارت سے بھی فارغ ہوگئے ہیں، مسلم لیگ ن کی صدارت کے لئے جلد پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا جائےگا۔ پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس میں شہباز شریف کو نیا صدر نامزد کردیا جائے گا۔ شہباز شریف کی بطور پارٹی صدر تقرری کے بعد الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا جائے گا۔دوسری جانب مشاورتی اجلاس میں نوازشریف کو بذریعہ جہاز لاہور جانے کی تجویز دی گئی جہاں لاہور ایئرپورٹ آمد پر لاکھوں لوگ نواز شریف کااستقبال کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں