ایکسپریس نیوز کے مطابق پانچ ججزکا متفقہ فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے جس کا کچھ حصہ جسٹس اعجاز افضل خان اور کچھ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں قومی احتساب بیورو(نیب) کو حکم دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے جاری ہونے کے بعد 6 ہفتوں کے اندر جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد، ایف آئی اے اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی روشنی میں ریفرنس تیار کرے اور راولپنڈی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس پیش کرے۔ نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مواد سے بھی استفادہ حاصل کر سکتی ہے جو کہ جے آئی ٹی کی طرف سے میوچل لیگل اسسٹنس کے ذریعے بیرونی ممالک سے مانگا گیا ہے عدالت نے نیب کو 5 مختلف ریفرنسز دائر کرنے کی ہدایت کی ہے جن میں پہلا ریفرنس میاں محمد نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز یعنی برطانیہ میں لندن کے پارک لین میں موجود فلیٹس 16، 16۔A، 17، 17۔A کے حوالے سے ہو گا۔
اپنے فیصلے میں نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر ریفرنس تیار اور احتساب عدالت میں دائر کرے۔ نواز شریف، حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف دوسرا ریفرنس عزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل قائم کرنے کے حوالے سے ہوگا۔ تیسرا ریفرنس نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ، ہارسٹون پرائیویٹ پراپرٹی، کو ہولڈنگ لمیٹڈ، کوائنٹ ایٹن پلیس ٹو، کوائنٹ سیلون لمیٹڈ، کوائنٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سکیورٹیز لمیٹڈ، کوائنٹ گلوسٹر پلیس لمیٹڈ، کوائنٹ پے ڈنگٹن لمیٹڈ، فلیگ شپ ڈویلپمنٹ لمیٹڈ، الانہ سروسز لمیٹڈ، لینکن ایس اے (بی وی آئی)، کیڈرن، اینسبیکر، کومبر اور کیپیٹل زیڈ ای کے حوالے سے دائر کیا جائے۔ چوتھا ریفرنس اسحاق ڈار کے خلاف اثاثوں میں آمدن سے زائد اضافے کی بنیاد پر دائر کیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق اسحاق ڈار کے اثاثے 1993میں 90 لاکھ 11 ہزار روپے تھے جو 2000 میں 83 کروڑ 17 لاکھ تک پہنچ گئے۔ عدالت نے نیب کو ہدایت کی ہے کہ پانچواں ریفرنس شیخ سعید، موسیٰ غنی، کاشف مسعود قاضی، جاوید کیانی اور سعید احمد کے خلاف دائر کیا جائے جنہوں نے بالواسطہ یا بلاواسطہ نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور اسحاق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں معاونت فراہم کی۔ عدالت نے نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر کوئی ایسا دوسرا اثاثہ سامنے آ جائے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آ سکا تو مزید ضمنی ریفرنسز بھی دائر کرے گی۔ عدالت نے احتساب عدالت کو ہدایت کی ہے کہ یہ تمام ریفرنسز دائر ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر نمٹائے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر احتساب عدالت کے سامنے یہ بات آئے کہ مدعا علیہان یا کسی اور شخص کی طرف سے جمع کرایا گیا، کوئی ڈیڈ، دستاویز یا بیان حلفی جعلی یا جھوٹااور جعل سازی سے تیار کیا گیا ثابت ہو تو متعلقہ شخص کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔ چونکہ نواز شریف کیپیٹل ایف زیڈ ای جبل علی کے حوالے سے ملنے والی مراعات عام انتخابات 2013 میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 (روپا) کی خلاف ورزی ہے اور نواز شریف نے اس ضمن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا جس کی وجہ سے وہ روپا کے سیکشن 99(f) اور آئین کے آرٹیکل 6 b1f) کے تحت صادق اور امین نہیں رہے اس لئے وہ بطور رکن مجلس شوریٰ نااہل ہو چکے ہیں ۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ فوری طور پر میاں نوازشریف کی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرے جس کے بعد وہ وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ عدالت نے صدر پاکستان سے کہا ہے کہ وہ آئین پاکستان کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو نیب اور احتساب عدالت کی کارروائی مانیٹرنگ اور نگرانی کے لئے نامزد کریں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی کے ممبران کے انتھک کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے قلیل عرصے میں عدالتی حکم پر مفصل اور جامع رپورٹ تیار کر کے جمع کروائی۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ جے آئی ٹی میں شامل تمام افسران کی ملازمت کو تحفظ دیا جاتا ہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے تحقیقات کی نگرانی کے لئے نامزد فاضل جج کی اجازت کے بغیر ان کے خلاف بشمول ٹرانسفر اور پوسٹنگ کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا جا سکتا۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے فیصلے کے مطابق نواز شریف کی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ (ن) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عملدرآمد بینچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5 سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں