اسلام آباد ( آئی این پی )سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا 25صفحات پر مشتمل تفصیلی اور تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کو ایف زیڈ ای کمپنی کے مالی فوائد چھپانے اور جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر نا اہل قرار دیدیا گیا ، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا ،عدالت نے اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کو بھی نا اہل قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے نواز شریف، حسننواز، حسین نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے اور

ADVERTISEMENT
Ad
چھ ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے ،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت آئین کے تحت جمہوری تسلسل کو یقینی بنائیں۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 21 جولائی کو 3 رکنی خصوصی بینچ کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔تفصیلی فیصلہ 25صفحات پر مشتمل ہے ،فیصلے میں عدالت کی معاونت کرنے پراٹارنی جنرل اشتر اوصاف،نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص قدیر ڈار ،قاہمقام پراسیکیوٹر جنرل نیب اکبر تارڈ،درخواست گزاروں کے وکلاء اور حکومتی شخصیات کے وکلاء کاشکریہ ادا کیا گیا۔فیصلے میں جے آئی ٹی ارکان کے کام کو سراہا گیا اور انکی مدت ملازمت کی حفاظت اور انکے تبادلوں سمیت انکے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔جے آئی ٹی ارکان کے تقررو تبادلے بھی عدالتی اجازت سے مشروط کردیے گئے ہیں۔عدالت نے نیشنل بنک کے صدر سعید احمد ،وزیراعظم کے دوست شیخ سعید ،موسیٰ غنی ،کاشف مسعود قاضی اور جاوید کیانی سمیت اگر کسی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ وزیراعظم انکےبچوں کے اثاثوں سے کوئی تعلق ظاہر ہوتا ہے انکے خلاف بھی کاروائی کا حکم دیا ہے ۔فیصلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کے فیصلے پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد کی نگرانی اور نیب اور احتساب عدالت کی طرف سے کی جانے والی کاروائی پر نظر رکھنے کیلئے عدالت کے ایک جج کو نامز د کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ ریفرنس احتساب عدالت راولپنڈیمیں دائر کیا جائے ،نیب ریفرنس جے آئی ٹی کی جانب سے جمع مواد پر دائر کرے ۔نوازشریف نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976کے تحت غلط حلف نامہ جمع کرایا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62اور عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے،نوازشریف کی نااہلی آئین کی دفعات 62 اور 63 کے تحت ہوئی،وزیر اعظم اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نےکیپٹل ایف زیڈ ای کمپنی کو چھپایا،صدر مملکت نئے وزیراعظم کے انتخاب کا اقدام کریں،الیکشن کمیشن نوازشریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائرکرنے کا حکم دیا اور کہاکہ احتساب عدالت چھ ماہ میں ریفرنس کا فیصلہ کرے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔حسین ، حسن ،مریم اور صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیاگیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بچے گلف سٹیل ملز کے قیام، فروخت سے متعلق سوالات کے جواب نہیں دے سکے،گلف سٹیل کی فروخت سے حاصل کردہ سرمایہ کی جدہ، قطر اور یو کے منتقلی سے متعلق جواب بھی نہیں دیا گیا۔نواز شریف کوئی بھی عوامی اور پارٹی عہدہ رکھنے کے اہل نہیں رہے،فوری طور پر عہدے سے علیحدہ ہوجائیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن فی الفور وزیر اعظم کو عہدے سےہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد صدر مملکت جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے آئین کے تحت ضروری اقدامات کریں۔۔ سپریم کورٹ نے چھ ہفتوں کے دوران نواز شریف ۔ حسن نواز ۔ حسین نواز ۔ مریم نواز ۔ کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب میں ریفرنسس دائر کر کے چھ ماہ میں احتساب عدالت کو ٹرائل مکمل کرنے کا حکم بھی دیا ۔عدالتنے نوازشریف ،حسین نواز او رحسن نواز کے خلاف عزیزیہ سٹیل مل اور ہل میٹل کا ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نوازشریف،مریم نواز حسین نواز حسن نواز کیپٹن صفدر کے خلاف لندن فلیٹس کا ریفرنس دائرکرنے کا بھی حکم دیا ۔جبکہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور فنڈز رکھنے پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اثاثوں کو ظاہر نہ کرنا بھی جھوٹے ڈیکلریشن کے مترادفہے۔ احتساب عدالت کسی ڈیڈ ‘ دستاویزات یا بیان حلفی کو جعلی پائے تو کارروائی کرے۔ نواز شریف نے اس اثاثے کو 2013 کے انتخابات میں ظاہر نہیں کیا۔ تنخواہ جب اثاثوں میں شمار ہوگئی تو پھر اثاثوں میں ڈیکلیئر کیوں نہیں کیا۔ تنخواہ وصول کی یا نہیں وہ اثاثے میں شمار ہوتی ہے۔ نواز شریف بطور چیئرمین ایف زیڈ ای تنخواہ کے حق دار تھے‘ انہوں نے کوئی تردید نہیں کی۔ نیب آمدن سے زائد اثاثے سامنے آنے پر ضمنیریفرنس بھی دائر کرسکتا ہے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے سولہ مختلف اثاثوں کو بنیاد بنا کر ٹرائل کیا جائے۔عدالت نے ۔نیب کو شیخ سعید ،موسی غنی، کاشف مسعود قاضی، جاوید کیانی اور احمد سعید کو شامل تفتیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ فیصلے میں چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ ٹرائل کی نگرانی کیلئے ایک جج کو نامز دکیاجائے۔فیصلے میں کہا گیاہے کہ جے آئی ٹی پر اختیارات سے تجاوز کرکے حدیبیہکیس کھولنے کا الزام غلط ہے۔ نواز شریف نے 2013 کے انتخابات میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا۔ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 91فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ باہمی مشاورت کے تحت حاصل مواد کو بھی نیب مدنظر رکھے۔ چار کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کی ضرورت ہے۔ مقدمہ نواز شریف‘ مریم ‘ حسن ‘ حسین کے خلاف بنتا ہے۔ سیکشن 9, 10 اور 15 نیب آرڈیننس کے تحت مقدمہ بنتا ہے۔ واضح رہے کہ 3 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز کامعاملہ صحافیو ں کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے اٹھایا تھا۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام شامل تھے۔ ڈیٹا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریفکے بچوں مریم، حسن اور حسین نواز کئی آف شورکمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔ ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا، اس حوالے سے وزیر اعظم نوازشریف نے دوبار قوم سے خطاب کیا اور ایک بار پارلیمنٹ میں بھی خطاب کیا۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں تحقیقات کیلئے ٹی اوآرز بنانے کیلئےکوشش کرتی رہیں لیکن حکومت کا اصرار تھا کہ احتساب کا عمل سب سے شروع ہونا چاہیے جبکہ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ صرف وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کا پہلے احتساب ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں