اسلام آباد (آئی این پی)قومی احتساب بیورو(نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے کرپشن شکایات پر 5انکوائریوں،4تحقیقات اور ایک کرپشن ریفرنس عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دے دی جبکہ شواہد کی عدم فراہمی پر 3انکوائریاں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایک کیس میں پلی بارگین کی درخواست کی منظوری دی گئی ہے،جن کیسوں میں انکوائریاں اور تحقیقات ہوں گی ان میں سمندر پار پاکستانیوں سے فراڈ کے ذریعے 5ارب 6کروڑروپے ہتھیانے ،گھوٹکی میں 40کنال پلاٹ کی جعلی لیز بناکرقومی خزانے کو 5ارب 6کروڑ30لاکھ روپے نقصان پہنچانے اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے تعمیراتی منصوبے میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو 4ارب روپے نقصان پہنچانے سمیت دیگر کیس شامل ہیں۔بدھ کو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹرز میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ نیب بورڈ نے مکہ شوگرمل کے سی ای او ریاض قدیر بٹ کے خلاف کرپشن ریفرنس عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دی،ملزم پر ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان اور یوٹیلیٹی سٹور آف پاکستان کو چینی سپلائی نہ کرنے اور فراہمی کیلئے دی گئی پیشگی ادائیگی میں خرد برد کا الزام ہے، ملزم نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ نیب بورڈ نے کرپشن انکوائریوں پر چار تحقیقات کی منظوری دی، بلوچستان کے سابق وزیرمحمد امین عمرانی کے خلاف انکم سے زائد اثاثے بنانے پر تحقیقات ہوں گی، سابق صوبائی وزیر پر قومی خزانے کو 8کروڑ 87لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے،سمندر پار پاکستانیوں سے فراڈ کے ذریعے 5ارب 6کروڑروپے ہتھیانے پر ڈاکٹر شوکت علی بنگش نامی شخص اور دیگر کے خلاف تحقیقات ہوں گی، ڈیٹا لبریکینٹ کے مالک محمد طارق علی اور دیگر کے خلاف قرض نادہندگی پر تحقیقات ہوں گی، ملزمان 5کروڑ 29لاکھ روپے قرض کے نادہندہ ہیں۔بجلی کی غیر قانونی خریدوفروخت پر پیپکو، پیسکو اور المعزشوگر مل کے مالک کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔کرپشن شکایات پر نیب بورڈ نے 5انکوائریوں کی منظوری دی۔ سابق قائمقام آئی جی پولیس سندھ غلام شبیر شیخ کے خلاف انکم سے زائد اثاثے بنانے پر انکوائری ہو گی، غلام شبیر شیخ پر قومی خزانے کو 5ارب روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ہری پور یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں کے ذریعے خرد برد کے الزام پر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف انکوائری ہو گی۔ ضلع گھوٹکی میں 40کنال پلاٹ کی جعلی لیز ڈیڈ بنانے پر غلام قادر دریجو، جام سیف اللہ دریجو، زاہد عباسی ڈی سی گھوٹکی اور دیگر کے خلاف انکوائری ہو گی،اس کیس میں پلاٹ کی جعلی لیز بناکر قومی خزانے کو 5ارب 6کروڑ30لاکھ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔پاک کور بائیو آرگیننگ کمپنی ملتان اور اپنا مائیکرو فنانس بینک ساہیوال برانچ کے افسروں کے خلاف انکوائری ہو گی، اس کیس میں ملزمان نے ایک تاجر کے ساتھ ایک کروڑ81لاکھ روپے کا فراڈ کر کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی شکایت پر ناصر محمود عباسی نامی شخص کے خلاف انکوائری ہو گی، اس کیس میں ناصر محمود کے اکاؤنٹ میں مشتبہ ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔نیب بورڈ نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے تعمیراتی منصوبے میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو 4ارب روپے نقصان پہنچانے پر دوبارہ انکوائری کی منظوری دی ہے۔ نیب بورڈ نے پاک پی ڈبلیو ڈی کے افسران ، تعمیراتی کمپنی اور دیگر کی طرف سے پلی بارگین کی درخواست کی منظوری دی ہے، اس کیس میں ملزمان نے56لاکھ 23ہزار616روپے کی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کی ہے۔ نیب بورڈ نے 3انکوائریاں ناکافی شواہد پر بند کرنے کی منظوری دی ہے۔بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ نیب ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، تمام افسران کرپشن کے خاتمے کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائیں۔ انہوں نے نیب افسران کو ہدایت کی کہ وہ کرپشن کی شکایات، انکوائریوں اور تحقیقات کو قانون کے مطابق شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل کرنے کیلئے اپنی بھرپور کوششیں کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں