لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مرحوم شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل سپنسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کے جنازے میں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے چلنے کے بارے میں جھوٹ بولا گیا تھا۔ارل سپنسر کا کہنا ہے کہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری کا یوں اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے پیچھے چلنا ’ ایک ’بھونڈی اور ظالمانہ‘ حرکت تھی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنی بہن کی بیسویں برسی کے حوالے سے ریڈیو فور کو انٹریو دیتے ہوئے کیا ۔پرنس ولیم
اور پرنس ہیری کے ماموں کا کہنا تھا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا کہ ان کے بھانجے اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتے تھے، حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی۔ ارل سپنسر کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کے جنازے میں شرکت کا آدھا گھنٹہ ان کی زندگی کا سب سے ہولناک وقت تھا۔ ارل سپنسر کے بقول وہ آدھا گھنٹہ ’ ہر لحاظ سے دن کا سب سے بُرا وقت تھا، جب میں اپنی بہن کے تابوت کے پیچھے چل رہا تھا اور یہ دونوں لڑکے میرے ساتھ تھے، جو کہ صاف ظاہر ہے کہ اپنی ماں کے غم میں نڈھال تھے۔’ہمیں یہ کہنا کہ آپ تابوت کے پیچھے چلتے ہوئے ناک کی سیدھ میں دیکھتے رہیں، بڑی عجیب سی بات تھی۔‘ ارل سپنسر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خاندانی گھر کے جس حصے میں ان بہن پرنسس ڈیانا دفن ہیں، وہاں اب تک چار مرتبہ دیوار پھلانگ کر داخل ہونے کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی ’زبردست وکالت‘ کر رہے تھے کہ ولیم اور ہیری اپنی والدہ کی میت کے پیچھے نہ چلیں کیونکہ ان کی والدہ یہ بات پسند نہ کرتیں۔‘ ’لیکن پھر آخر کار مجھ سے جھوٹ بولا گیا اور مجھے یہ بتایا گیا کہ شہزادوں کی یہی خواہش تھی، حالانکہ وہ بالکل ایسا نہیں چاہتے تھے۔لیکن مجھے اس وقت یہ نہیں پتا چلا کہ مجھے جھوٹ بتایا جا رہا ہے۔‘ یاد رہے کہ ارل سپنسر کے اس انٹرویو سے پہلے پرنس ہیری، جو اپنی والدہ کے انتقال کے وقت بارہ سال کے تھے، جنازے میں شرکت کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی بچے کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ایسا کرے۔شہزادی ڈیانا کے جنازے کے جلوس کے حوالے سے ارل سپنسر کا مزید کہنا تھا کہ یہ ’بڑا عجیب وقت‘ اور جلوس کے دوران انھیں لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو رو رہے تھےاور بلند آواز میں ڈیانا اور شہزادوں کے لیے اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے۔’تاہم اس وقت (ہمارے لیے) یہ ممکن نہیں تھا کہ ہم جلوس کے شرکا کے جذبات سے خود کو بالکل الگ کیے رکھتے، کیونکہ ان جذبات کی لہر ہم اپنے اندر بھی محسوس کر رہے تھے۔‘’ بڑا عجیب وقت تھا۔جیسے ایک طرف ہمارے جلوس کی آوازیں ہوں، گھوڑوں کی ٹاپوں، بگھی اور ہمارے قدموں کی آوازیں اور دوسری جانب ہمارے اندر سے ہر طرف سے آنے والے جذبات کا طوفان۔ بڑا ہولناک وقت تھا وہ۔‘اپنے انٹرویو میں ارل سپنسر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انھوں نے جو قصیدہ اپنی بہن کی موت پر پڑھا تھا، وہ انھوں نے اپنی بہن کی اُس سٹڈی (مطالعے کے لیے مخصوص کمرے) میں بیٹھ کر لکھا تھا جو شہزادی ڈیانا کو بہت پسند تھی۔سنہ 1997 میں شہزادی ڈیانا کی یاد میں دعائیہ تقریب میں ارل سپنسر کے اس بیان کو کہ ولیم اور ہیری کی حفاظت ان کے ’خون کے رشتے‘ کریں گے، شاہی گھرانے پر حملے سے تعبیر کیا گیا تھا۔ تاہم ارل سپنسر کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ شہزادی ڈیانا کو ان کی تقریر پر فخر ہوتا۔ ’میں جانتا ہوں کہ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کوئی سنکی ہوں، لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں یہ تقریر کر رہا تھا تو عین اس وقت بھی مجھے لگ رہا تھا کہ مجھے (ڈیانا) کی تائید حاصل ہے۔‘اپنی بہن کی یاد میں لکھے ہوئے قصیدے کے بارے میں ارل سپنسر کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا ہے کہ میں نے اس میں بہت زیادہ چبھن والی باتیں کی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا ایک ایک لفظ سچ تھا اور میرے لیے سب سے اہم بات یہی تھی کہ میں سچ بولوں۔‘یاد رہے کہ کہ اُس قصیدے میں ارل سپنسر نے شہزادی ڈیانا کی کھانے پینے کا خیال نہ رکھنے کی عادت اور ان کی زندگی پر ہر وقت پیچھا کرنے والے فوٹو گرافروں کے اثرات کا ذکر بھی تھا۔ارل سپنسر کے مطابق اپنے آخری دنوں میں ان کی بہن کچھ ایسے چٹ پٹی خبریں لگانے والے رسائل اور اس قسم کے دوسرے عناصر کی وجہ سے خاصی پریشان تھیں جو ہر وقت ان کی تصویریں لینے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ ’مجھے یاد ہے کہ انھوں نے مجھے ایک شخص کے بارے میں بتایا تھا جس نے قسم کھائی تھی کہ وہ مرتے دم تک ان کا پیچھا کرتا رہے گا اور جب وہ مر جائیں گی تو وہ ان کی قبر پر پیشاب کرے گا۔‘’اس کا مطلب یہی ہے کہ شہزادی کا پالا ذرائع ابلاغ کے ایک سیاہ حلقے سے پڑ چکا تھا۔ اسی لیے یہ اہم تھا کہ میں ڈیانا کے جنازے پر اس بات کا ذکر بھی کرتا۔‘ جب ارل سپنسر سے یہ پوچھا گیا کہ آیا ملکہ نے ان کے قصیدے کے حوالے سے کچھ کہا تھا، تو شہزادی ڈیانا کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے ایک دوست نے انھیں بتایا کہ ملکہ نے یہ کہا تھا کہ مجھے حق ہے کہ میں جو محسوس کرتا ہوں،اس کا اظہار کروں۔‘یاد رہے کہ شہزادی ڈیانا کی میت کو ان کے بھائی کے اصرار پر نارتھیمپٹن شائر میں ان کی خاندانی جاگیر کے اندر واقع اس گھر میں دفن کیا گیا تھا جہاں شہزادی نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ ارل سپنسر کے بقول ان کے نزدیک شہزادی کو ان کے خاندانی گھر میں دفن کرنا ’قدرتی‘ بات تھی کیونکہ وہ اپنی بہن کو ’محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔‘ ’ہر جگہ سے، ہر جانب سے جذبات کو اتنی ہوا دی جا رہی تھی کہ میں فکر مند ہو گیا کہ آخر وہ کون سی جگہ ہو سکتی ہے کہ جہاں ہم پرنسس ڈیانا کو دفن کریں اور وہ وہاں محفوظ رہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں