لندن (آئی این پی )دنیا کے امیر ترین اور کفایت شعار افرادکی فہرست سامنے آگئی ہے جن میں مائیکروسافٹ کے بل گیٹس ، فیس بک کے مالک مارک زکر برگ اور دیگر شامل ہیں ، مارک زکربرگ کے بارے میں انکشاف ہواہے کہ ان کے پاس لگ بھگ 70 ارب ڈالرز کے مالک ہیں اور دنیا کے پانچویں امیر ترین شخص ہیں،ان کے اثاثے اتنے زیادہ ہیں کہ روزانہ ایک نئی فراری گاڑی خرید سکتے ہیں تاہم جب انہوں نے جب انہوں نے شادی کی تو انہوں نے کسی جگہ کا انتخاب کرنے کی بجائے اپنے گھر کے احاطے کوترجیح دی تاکہ خرچے سے بچا جاسکے، جبکہ ہنی مون کے دوران یہ جوڑا اٹلی میں میکڈونلڈ کے برگر کھا کر بچت کرتا رہا،بل گیٹس دنیا کے امیر ترین شخص ہیں مگر ان کی کلائی میں صرف 10 ڈالرز کی گھڑی ہے، جبکہ کفایت شعاری کے لیے وہ نئے فیشن یا آسان الفاظ میں مہنگے ملبوسات پہننا پسند نہیں کرتے،اسی طرح وہ ہر رات اپنے گھر میں برتن دھونا پسند کرتے ہیں کیونکہ ڈش واشر کو استعمال کرنے سے آخر کار بجلی کا خرچہ جو ہوتا ہے، علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ کے بانی و چیئرمین جیک ما، چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں مگر نمود و نمائش کے سخت مخالف اور اپنی ذاتی زندگی کو لوگوں کی نگاہوں سے دور رکھنے کے حامی ہیں۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہے اور لوگ دن رات دولت کمانے میں صرف کر دیتے ہیں اور امیر بن کر ہر طرح کی پرتعیش زندگی گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔دنیا بھر میں امیر ترین افراد کے پرتعیش طرز زندگی کی داستانیں عام ہیں جیسے ان کی کشتیاں اور بلند و بالا محل سے لے کر ان کے کپڑے،زیورات اور دیگر اشیا سب کچھ مہنگے سے مہنگا ہوتا ہے۔تاہم ایسے ارب پتی حضرات کی بھی کمی نہیں جو اربوں ڈالرز کے مالک ہونے کے باوجود عام سادہ سی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کو دیکھ کر کسی کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔تو ایسے ہی کچھ افراد کا طرز زندگی جانیے جنھوں نے کروڑوں بلکہ اربوں ڈالرز کمائے ہیں مگر اپنی کفایت شعاری کے ساتھ فلاحی کام کرتے ہوئے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مارک زکربرگ لگ بھگ 70 ارب ڈالرز کے مالک ہیں اور دنیا کے پانچویں امیر ترین شخص ہیں، ان کے اثاثے اتنے زیادہ ہیں کہ روزانہ ایک نئی فراری گاڑی خرید سکتے ہیں، مگر فیس بک کے بانی ایک سستی واکس ویگن جی ٹی آئی چلاتے ہیں، جس کی مالیت 30 ہزار ڈالرز ہے۔اسی طرح جب انہوں نے شادی کی تو انہوں نے کسی جگہ کا انتخاب کرنے کی بجائے اپنے گھر کے احاطے کو ترجیح دی تاکہ خرچے سے بچا جاسکے، جبکہ ہنی مون کے دوران یہ جوڑا اٹلی میں میکڈونلڈ کے برگر کھا کر بچت کرتا رہا۔بل گیٹس دنیا کے امیر ترین شخص ہیں مگر ان کی کلائی میں صرف 10 ڈالرز کی گھڑی ہے، جبکہ کفایت شعاری کے لیے وہ نئے فیشن یا آسان الفاظ میں مہنگے ملبوسات پہننا پسند نہیں کرتے۔اسی طرح وہ ہر رات اپنے گھر میں برتن دھونا پسند کرتے ہیں کیونکہ ڈش واشر کو استعمال کرنے سے آخر کار بجلی کا خرچہ جو ہوتا ہے۔کارلوس سلم میکسیکو کے امیر ترین شخص ہیں مگر اپنی پرانی گاڑی کو خود ڈرائیو کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ ڈرائیور کی تنخواہ کے پیسے بچائے جاسکیں۔اسی طرح اپنے ریٹیل اسٹور پر رکھے سستے ملبوسات خریدتے ہیں جبکہ چالیس سال سے زائد عرصے سے وہ اپنے درمیانے درجے کے گھر میں مقیم ہیں۔ایمانسیو اورٹیگا’زارا’ جیسی دنیا بھر میں مقبول فیشن کمپنی کے ارب پتی مالک انتہائی کفایت شعاری سے زندگی گزارتے ہیں۔وہ نہ صرف ایک سستے اپارٹمنٹ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مقیم ہیں بلکہ اپنی جوانی کے زمانے سے ایک سستے کافی شاپ میں جاکر گرم مشروب پینا پسند کرتے ہیں۔فیشن کی دنیا میں ان کی کمپنی کا بڑا نام ہے مگر وہ خود عام طور پر انتہائی سادہ قسم کے لباس میں نظر آتے ہیں جبکہ پیسے بچانے کے لیے دوپہر کا کھانا بھی کمپنی کے کیفے ٹیریا میں کھاتے ہیں۔ڈیوڈ کیروٹن امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور آریسٹا نیٹ ورک کے شریک بانی ہیں، وہ 1998 میں گوگل میں سرمایہ کاری کرنے والے اولین افراد میں سے ایک ہیں، جب دنیائے انٹرنیٹ پر حکمران سرچ انجن کے بانیوں لیری پیجاور سرگئی برن نے اپنے پراجیکٹ کے بارے میں ان سے تذکرہ کیا تھا۔اس وقت ایک لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری پروفیسر ڈیوڈ کے بہت کام آئی اور اگرچہ وہ ارب پتی بننے کے خیال کو پسند نہیں کرتے مگر اب ان کے اثاثوں کی مالیت 2.9 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔تاہم پروفیسر ڈیوڈ نے 2006 میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ پرتعیش طرز زندگی کے خلاف ہیں اور جو لوگ درجنوں باتھ رومز کے ساتھ محل نما گھر تعمیر کرتے ہیں اور دیگر لگژری اشیا کو ترجیح دیتے ہیں،ان کے اندر کچھ نہ کچھ غلط ہوتا ہے۔ارب پتی ہونے کے باوجود یہ پروفیسر اب بھی 1986 کی واکس ویگن ویناگون ڈرائیو کرتے ہیں اور گزشتہ 30 برس سے ایک ہی گھر میں رہتے آرہے ہیں، یہاں تک کہ اپنے بال بھی خود کاٹتے ہیں اور ٹی بیگز کو بھی کئی کئی بار دوبارہ استعمال کرلیتے ہیں۔تاہم 2012 میں اپنے بچوں کی فرمائش پر مجبور ہوکر انہوں نے ہنڈا اوڈیسے گاڑی خریدی تھی۔جیک ما کی علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ ایک چینی ای کامرس کمپنی ہے اوراس کے بانی و چیئرمین جیک ما، چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں مگر نمود و نمائش کے سخت مخالف اور اپنی ذاتی زندگی کو لوگوں کی نگاہوں سے دور رکھنے کے حامی ہیں۔جیک ما کی پرورش چین کے ایک غریب کمیونسٹ گھر میں ہوئی، وہ دو بار کالج میں داخلے کے امتحانات میں ناکام ہوئے اور انہیں درجنوں ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔اب جبکہ وہ چین سمیت دنیا بھر میں ایک معروف شخصیت اور امیر ترین فرد بن چکے ہیںوہ اب بھی چوٹیوں کے اوپر مراقبے اور اپنے گھر میں دوستوں کے ساتھ پوکر کھیل کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ان کے ایک دوست اور کمپنی میں معاون چین نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ جیک ما کا طرز زندگی بہت سادہ اور متعدل ہے۔ ان کے پسندیدہ مشاغل میں اب بھی ٹائی چی اور کنگفو ناولز پڑھنا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص بن کر بھی بدلیں گے کیونکہ ان کا انداز بدلنے والا نہیں یا وہ پرانی سوچ کے حامل شخص ہیں۔ڈیوڈ کارپ معروف بلاگنگ پلیٹ فارم ٹمبلر کے بانی اور سی ای او ہیں جن کی کمپنی کی مالیت اربوں ڈالرز ہے تاہم اس کے باوجود وہ سادہ طرز زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے اپنی دولت سے سب سے بڑی عیاشی جو کی وہ نیویارک کے علاقے بروکلین میں 1700 اسکوائر فٹ کا گھر تھا جس کے لیے 16 لاکھ ڈالرز خرچ کیے تاہم اب بھی اس کا آدھا حصہ خالی پڑا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیوڈ اپنی دولت اتنی کفایت شعاری سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے پاس پہننے کے لیے زیادہ کپڑے تک نہیں۔فوربس کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی کتاب نہیں اور میرے پاس زیادہ کپڑے بھی نہیں۔ڈیوڈ کے بقول میں ہمیشہ اس وقت حیران رہ جاتا ہوں جب لوگ اپنے گھروں کو ان چیزوں سے بھر لیتے ہیں جن کا کوئی زیادہ فائدہ بھی نہیں ہوتا۔عظیم پریم جی ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی بڑی کمپنی ویپرو کے چیئرمین عظیم پریم جی بھارت کے دولتمند ترین افراد میں سے ایک ہیں، مگر وہ دولت خرچ کرنے سے نفرت کرتے ہیں۔16.1 ارب ڈالرز کے مالک عظیم پریم عام طور پر فضائی سفر کے دوران سستی ترین کلاس کا انتخاب کرتے ہیں اور ایئرپورٹ سے اپنے دفتر جانے کے لیے آٹو رکشہ لینا پسند کرتے ہیں۔وہ اپنے دفاتر میں اتنی کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں کہ ٹوائلٹ پیپر تک کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اور اکثر اپنے ملازمین کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ دفتر سے جانے سے قبل تمام اضافی لائٹس بند کرکے جائیں۔ان کی کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق عظیم پریم جی نے انکل اسکروج(معروف کارٹون جو بطخ کی شکل کا امیر ترین فرد ہوتا ہے) کو سانتا کلاز جیسا بنا دیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عظیم پریم جی چاہیں تو ایک جیٹ طیارہ بھی خرید سکتے ہیں مگر وہ گاڑی تک خریدنے کے روادار بھی نہیں ۔جان کوم واٹس ایپ جیسی کامیاب سوشل میڈیا سائٹ کے بانی جان کوم اب اربوں ڈالرز کے مالک ہیں تاہم آغاز میں وہ بہت غریب تھے۔جان کوم کی پیدائش یوکرائن کے شہر کیف میں ہوئی اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اس وقت امریکا منتقل ہوئےجب ان کی عمر 16 سال تھی جہاں اس خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور گزر بسر کے لیے حکومتی امداد لینا پڑی۔جان کوم لڑکپن سے ہی پیسہ بچانے کے عادی تھے اور جب ان کی ویب سائٹ واٹس ایپ کو فروری 2014 میں فیس بک نے 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تو انہوں نے فیس بک پر دبا ڈالا کہ وہ ان کی بارسلونا جانے والی پرواز سے پہلے معاہدے کرلے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پرواز کا ٹکٹ رعایتی اسکیم میں لیا تھا جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ٹم کوکایپل کمپنی کے سی ای او ٹم کوک کو کون نہیں جانتا اور اب بھی وہ امریکا کی سیلیکون ویلی کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے چیف ایگزیکٹو ہیں مگر ان کے طرز زندگی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ وہ کروڑوں ڈالرز کے مالک ہیں۔ٹم کوک عام لوگوں کی نظروں سے دور رہ کر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں 19 لاکھ ڈالرز کے عوض گھر خریدنے کے سوا آج تک کسی پرتعیش چیز پر زیادہ رقم خرچ نہیں کی۔ان کا کہنا ہے،میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے ایسے فرد کے طور پر جانیں جو جہاں سے تعلق رکھتا تھا وہی رہا اور اپنی ذات کو یہاں کے ماحول میں رکھنے سے مجھے ایسا کرنے میں مدد ملے گی، دولت کبھی بھی میرے لیے آگے بڑھنے کا عزم نہیں رہی۔ٹم کوک نے گزشتہ دنوں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ خیراتی اداروں کے نام کردیں گے اور بس اپنے بھتیجے کے تعلیمی اخراجات کو ہی اپنے پاس رکھیں گے۔سرگئی برن گوگل کے شریک بانی سرگئی برن دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں اور یہ کہنا کچھ عجیب سا لگے گا کہ متعدد نجی طیاروں کا مالک فرد کفایت شعار ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ سرگئی برن خود تسلیم کرچکے ہیں کہ انہیں دولت خرچ کرنا پسند نہیں۔اپنے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اپنے والدین سے میں نے کفایت شعار رہنا سیکھا اور میں متعدد آسائشات کے بغیر بھی بہت خوش ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ موقع بہتدلچسپ ہوتا ہے جب میں پلیٹ میں ایک ذرہ تک چھوڑ کر اٹھنا پسند نہیں کرتا۔ میں اب بھی عام اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہوں اور خود کو مجبور کرتا ہوں کہ کم سے کم خرچ کروں اگرچہ میں کنجوس نہیں مگر متعدد آسائشات نہ ہونے کے باوجود خود کو خوش باش محسوس کرتا ہوں۔وہ اب بھی رعایتی قیمتوں پر اشیا خریدتے ہیں اور فلاحی کام کرنا پسند کرتے ہیں، 2013 میں انہوں نے اور ان کی (سابقہ) اہلیہ این ووجکیکی نے 219 ملین ڈالرز اس مقصد کے لیے خرچ کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں