اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جب عمران خان کی باری آئی ریکارڈ جمع کرانے کی تو کہہ رہے ہیں کہ ریکارڈ نہیں ہے، ملک میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو بطور وزیراعظم ووٹ ڈالا گیا، نواز شریف کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پہلے ڈکٹیٹر 58ٹو بی کے ذریعے حکومت گراتے تھے اب سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کیا جا رہا ہے،وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی میڈیا سے گفتگو ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے فیصل آباد میں میـڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ

عمران کی باری آئی تو اپنا ریکارڈ پیش نہیں کر سکتے، منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹایا جائے ، پہلے ڈکٹیٹر 58ٹوبی کے ذریعے حکومتوں کو گراتے تھے، دھرنا ون اور ٹو ناکام ہونے پر اب سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرتے ہوئے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ عمران خان اپنا حساب دینے میں ناکام ہو چکے، جیسے ہی پاکستان استحکام کی راہ پر گامزن ہوتا ہے کچھ قوتیں اسے عدم استحکام کی جانب دے دھکیلنے کیلئے سرگرم ہو جاتی ہیں۔ کچھ دانستہ اور کچھ لوگ حماقتوں کی وجہ سے غیر ملکی سازشوں میں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا میاں شریف جب تک زندہ رہے انہوں نے اپنے کاروبار کی خود دیکھ بھال کی ، کڑی سے کڑی جوڑ کر سوال کئے جا رہے ہیں،کہ نواز شریف کے جانے سے ملک کو عظیم نقصان پہنچے گا ، کیا تمام قوانین وزیراعظم پر نافذ کئے جانے ہیں، کیا آئین کا آرٹیکل 62اور 63نواز شریف کیلئے ہے؟بھٹو کی پھانسی کے نتائج آج تک قوم بھگت رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی پیپلزپارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کیلئے نامزد ہوئے تھے جبکہ پاکستان میںعوام نے صرف تین شخصیات کو وزیراعظم کے طور پر ووٹ دئیے ، عوام کو ووٹ دیتے وقت معلوم تھا کہ ہم جس جماعت کو ووٹ دے رہے ہیں اس کا یہ رہنما وزیراعظم بنے گا جس میں سے ایک ذوالفقار علی بھٹو، دوسری بینظیر بھٹو اور تیسرے میاں نواز شریف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا تو اس کا خمیازہ پاکستان کی عوام کو بھگتنا ہو گا۔آج پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان استحکام کی طرف جا رہا ہے اور پاکستان سی پیک کی صورت میں ایٹمی دھماکہ کرنے والا ہے۔ لولے لنگڑے لوگ سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جو باتیں جاوید ہاشمی کر رہے ہیں کیا وہ کسی کو سنائی نہیں دے رہیں۔ نواز شریف کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کو قبول نہیں کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو بات کرنی نہیں آتیوہ بھی سپریم کورٹ میں پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ پنڈی کے شیطان اور الزام خان کو ہدایت دے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں