مغل بادشاہ شاہ جہاں دکن پر قبضے کیلئے فوج روانہ کر چکا تھا ، فتح کیلئے بے چین محل کے کمرے میں بے چین ٹہلتے ہوئے اسے اچانک کچھ سوجھا، فوراََ سواری تیار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ، سواری تیار ہو ئی تو سرپٹ دوڑاتے ہوئے اپنے روحانی استاد میاں میرصاحب کے حضور جا پہنچا،ہاتھ باندھے مؤدب کھڑا ہو کر دکن کی فتح کیلئے دعا کی درخواست کر دی۔ میاں میر نے چند لمحے شاہ جہاں کے چہرے کا جائزہ لیا پھر ایک سکہ اس کے ہاتھ پر دھر دیااوربادشاہ سمیت وہاں موجود لوگوں سے کچھ ایسے مخاطب

ہوئے ’’یہ دنیا کے تمام غربا سے غریب شخص ہے، اتنی بادشاہی کے باوجود وہ دکن پر چڑھائی چاہتا ہے، اس کی بھوک، اس آگ کی طرح ہے جو لکڑیاں ڈالنے سے اور تیز ہوتی ہے۔ اس بھوک نے اسے ضرورت مند اور بھکاری بنا دیا ہے۔‘‘کہنے والے کہتے ہیں کہ دکن تو فتح ہو گیا مگر میاں میر کے اس مختصر خطاب میں شاہ جہاں کے انجام کی بھی پیشگوئی پوشیدہ تھی ۔ جس غربت کا تذکرہ میاں میر نے کیا تھا وہ کچھ اس طرح پوری ہوئی کہ شاہ جہاں اپنی بیٹی کے ہمراہ دسترخوان پر کھانا کھانے کیلئے بیٹھا، خادموں نے ڈھکے ہوئے خوان منہ کے آگے رکھ دئیے ، جیسے ہی شاہ جہاں نے کھانا تناول کرنے کیلئے خوان کا ڈھکن اٹھایا تواس کی چیخ نکل گئی ، اس کا سامنے اس کے دوبیٹوں کے کٹے سر پڑے تھے جنہیں اقتدار کے حصول کی جنگ میں ان کے اپنے بھائی عالمگیر نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔عالمگیر نے شاہ جہاں کو قید تنہائی میں ڈال دیا جہاں انتہائی کسمپرسی میں اس کی موت واقع ہوئی۔مغل شہزادہ دارا شکوہ کی کتاب سکینۃ الاولیا میں میاں میر سے متعلق ایک اورنہایت دلچسپ واقعہ درج ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر نے میاں صاحب کو دربار میں طلب کیا جس پر میاں صاحب نے دربار میں آنے سے انکار کر دیا ، جہانگیر نے دوسری بار نہایت ادب سے درخواست بھیجی کہ آپ کی رہنمائی درکار ہے ، غریب خانے کو عزت بخشئیے۔دوسری بار کا پیغام سن کر میاں میر مغل بادشاہ کے دربار میں جا پہنچے ،تخلیہ میسر آنے پر حضرت میاں میرنے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا، آپ کی گفتگوسے متاثر ہو کر مغل بادشاہ جہانگیرنے کہا کہ ’’حضرت آپ کی گفتگو نے دل پر کچھ ایسا اثر ڈال دیا ہے کہ میں ملک اور دنیا چھوڑ کر فقیر بننا چاہتا ہوں میرے لئے اب پتھر اور ہیرے جواہرات برابر ہو گئے ہیں ، مجھے دنیا کی کچھ طلب نہیں رہی ۔‘‘مغل بادشاہ کی بات سن کر میاں میر نے جواب میں فرمایا کہ ’’اگر ایسا ہے تو آپ صوفی ہیں۔” جہانگیر نے کہا کہ، “مجھے اپنا خادم بنا لیں اور خدا کی راہ دکھائیں۔” جس پر میاں میر نے جواب دیا کہ ’’تو مخلوقِ خدا کے لیے اچھا حکمران ہے، اللہ پاک نے تجھے اس عظیم کام پر مامور کیا ہے، کوئی اور شخص جو خلق خدا کا اتنا خیر خواہ، حلیم اور سخی ہو اسے بادشاہ بنا دو، ہم آپ کو فقیر بنا لیں گے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں