سرگودھا (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل ’’دنیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ایک بار پھر تہلکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوانوں میں 90 فیصد کرپٹ جاگیردار اور معاشی دہشتگرد بیٹھے ہیں،جمہوریت نام کی کوئی چیز ملک میں سرے سے موجو دنہیں، کروڑوں لگاؤ اربوں کماؤ کے تحت الیکشن لڑا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جمشید دستی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایوانوں میں فاحشہ عورتیں وزیروں کی گاڑیوں میں آتی ہیں ، پولیس انہیں سیلوٹ کرتی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تمام اداروں کو یہ معلوم ہے

، اس کے باوجود آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی حکمرانوں کے کہنے پر تشکیل دی گئی تھی، اب چوری پکڑی گئی ہے تو حواس باختہ ہو گئے ہیں۔جمشید دستی کا کہنا تھا کہ فاحشہ عورتیں وزرا کی گاڑیوں میں بیٹھ کر ایوانوں میں داخل ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسی حوالے سے قومی اسمبلی میں اس وقت عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی جب ملتان سے آزاد رکن نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ارکان اسمبلی کی قیام گاہ پارلیمینٹ لاجز میں شراب چلتی ہے اور مجرے ہوتے ہیں ان کے اس الزام سے ایوان میں سراسیمگی پھیل گئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اسرار اللہ زہری اور متحدہ قومی موومنٹ کے نبیل گبول نے جمشید دستی کے انکشافات کی تصدیق کی تو صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ اس طرح جمشید دستی کا مو¿قف زیادہ مضبوط ہوگیا تاہم اس وقت اجلاس کی صدارت کرنے والی نعیمہ کشور نے ان کا مائیک بند کرادیا جبکہ بعد میں سپیکر سردار ایاز صادق نے جمشید دستی سے کہا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت دیں، اگر کوئی رکن منفی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ورنہ جمشید دستی کو سزا بھگتنا ہوگی۔تفصیل کے مطابق آزادرکن جمشید دستی نے قومی اسمبلی میں الزام لگایا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں سالانہ چار سے پانچ کروڑروپے کی شراب لائی جاتی ہے ، وہاں ہروقت شراب کی بوآتی ہے ، جبکہ مجرے کیلئے وہاں لڑکیاں بھی لائی جاتی ہیںایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان باتوں کا ثبوت دے سکتے ہیں، اِسی دوران میں چیئرپرسن نعیمہ کشور نے جمشید دستی کامائیک بندکرادیا اورہدایت کی کہ اگرا یسی باتیں کرنی ہیں تو چیمبر میں آکر بتائیں ۔سپیکر قو می اسمبلی سردارایازصادق نے کہاکہ جمشید دستی نے میڈیا کیلئے ایسی باتیں کیں ، اگر سچ ہواتو کارروائی ہوگی لیکن جھوٹ ہونے پر جمشید دستی کی سزا بارے فیصلہ ایوان کرے گا اسی دوران میں ایم کیوایم اور مسلم لیگ( ن) کے بعض اراکان نے جمشید دستی کے بیانات کی تصدیق کردی۔ سپیکرسردارایاز صادق نے کہاکہ اقتدارمیں آکر پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کو فعال کیا، سی سی ٹی وی کیمرے ٹھیک کروائے ،پورے ایک ماہ کی ویڈیوموجود ہے ، جمشید دستی ثبوت دیں ، اگر کوئی رکن ملوث پایاگیاتو کارروائی ہوگی ۔ سپیکر کے بیان پر جمشید دستی نے دعویٰ کیاکہ پہلے خفیہ طریقے سے بتایاگیالیکن کارروائی نہ ہونے پر معاملہ ایوان میں لایا۔ پیپلزپارٹی کے رہنماءمولابخش چانڈیو نے کہاکہ جمشید دستی فرشتہ صفت انسان ہیں ، انسان سے غلطیاں ہوجاتی ہیں ،پارلیمنٹ میں کافی سارے لوگ آتے ہیں ، ہر طرح کے لوگ ہیں۔ شگفتہ جمانی نے کہاکہ توبہ نعوذبااللہ جو کچھ جمشید دستی نے کہا،ایسادیکھااور نہ ہی اس سے پہلے سناہے ،جمشید دستی کو سپیکر کے علم میں واقعات لانے چاہئیں تھے۔ ایم کیوایم کے رہنماءنبیل گبول نے کہاکہ ہم تو اس لیے یہ انکشاف نہیں کررہے تھے کیونکہ اگر کراچی میں میری بیوی کو پتہ چلا تو وہ ایوان کی کارروائی کیلئے آناہی بند کردے گی ،جمشید دستی کابیان حقیت پرمبنی ہے ،رات کے اڑھائی بجے خود اُنہوں نے بھی خواتین دیکھیںجو سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن کے لاجز سے آئی تھیں ، کافی ارکان ایساہی کرتے ہیں ، سپیکر تحقیقات کرالیں ۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسراراللہ زہری نے کہاکہ دیکھانہیں لیکن جمشید دستی کا بیان درست ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں