کتاب عجائب القرآن میں یہ نصیحت آموز کہانی منقول ہے کہ بنو امیہ کا بادشاہ عبدالملک بن مروان جب ملک شام میں طاعون کی وبا پھیلی تو موت کے ڈر سے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے شہر سے بھاگ نکلا اور ساتھ میں اپنے خاص غلام اور کچھ فوج کو بھی لے لیااوروہ طاعون کے ڈر سے اس قدر خائف (خوفزدہ )اور ہراساں تھا کہ زمین پر پاؤں نہیں رکھتا تھا بلکہ گھوڑے کی پشت پر ہی سوتا تھا ۔دوران ِ سفر ایک رات ا س کو نیند نہیں آئی ۔ تو اس نے اپنے غلام سے کہا کہ تم مجھے کوئی قصہ سناؤ۔ تو ہوشیار غلام نے بادشاہ کو نصیحت کرنے کا موقع پاکر یہ قصہ سنایا کہ ایک لومڑی اپنی جان کی حفاظت کے لیے ایک شیر کی خدمت گزاری کیا کرتی تھی ،تو کوئی درندہ شیر کی ہیبت کی وجہ سے لومڑی کی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اور لومڑی نہایت ہی بے خوفی اور اطمینان سے شیر کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھی ۔اچانک ایک دن ایک عقاب لومڑی پر جھپٹا تو لومڑی بھاگ کر شیر کے پاس چلی گئی ۔ اور شیر نے اس کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا ۔ عقاب دوبارہ جھپٹا اور لومڑی کو شیر کی پیٹھ پر سے اپنے چنگل میں دباکر اڑ گیا ۔ لومڑی چلا چلا کر شیر سے فریاد کرنے لگی تو شیر نے کہا کہ اے لومڑی !میں زمین پر رہنے والے درندوں سے تیری حفاظت کر سکتا ہوں ۔لیکن آسمان کی طرف سے حملہ کرنے والوں سے میں تجھے نہیں بچا سکتا ۔یہ قصہ سن کر عبدالملک بادشاہ کو بڑی نصیحت حاصل ہوئی اور اس کی سمجھ میں آگیا کہ میری فوج ان دشمنوں سے تومیری حفاظت کر سکتی ہے جو زمین پر رہتے ہیں مگر جو بلائیں اور وبائیں آسمان سے مجھ پر حملہ آور ہوں، ان سے مجھ کو نہ میری بادشاہی بچا سکتی ہے نہ میرا خزانہ اور نہ میرا لشکر ہی میری حفاظت کر سکتا ہے ۔ آسمانی بلاؤں سے بچانے والا تو بجز خدا کے اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ یہ سوچ کر عبدالملک بادشاہ کے دل سے طاعون کا خوف جاتا رہا اور وہ رضاء الہٰی پر راضی رہ کر سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے شاہی محل میں رہنے لگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں