اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ہم اٹلی کے شہر وینس کے ایک نواحی قصبے کے مشہور کافی شاپ پر بیٹھے ہوئے کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اس کافی شاپ میں ایک گاہک داخل ہوا جو ہمارے ساتھ والی میز کو خالی پا کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹھتے ہی بیرے کو آواز دی اور اپنا آرڈر اس طرح دیا ’’ دو کپ کافی لاؤ اور اس میں سے ایک وہاں دیوار پر‘‘۔ ہم نے اس شخص کے اس انوکھے آرڈر کو دلچسپی سے سنا۔بیرے نے آرڈر کی تعمیل کرتے ہوئے محض ایک کافی کپ اس کے سامنے لا کر رکھ دی۔ اُس نے کافی کا وہ کپ پیا۔ مگر پیسے دو کے ادا کیے۔ اس گاہک کے جاتے ہی بیرے نے دیوار پر جا کر ایک ورق چسپاں کر دیا۔ جس پر لکھا تھا ایک کپ کافی۔ ہمارے وہاں بیٹھے بیٹھے دو گاہک اور آئے جنہوں نے تین کپ کافی کا آرڈر دیا، دو ان کی میز پر اور ایک دیوار پر، انہوں نے دو ہی کپ پیئے مگر تین کپ کی ادائیگی کی اور چلتے بنے۔ ان کے جانے کے بعد بھی بیرے نے وہی کیا، دیوار پر ایک اور ورق چسپاں کردیا جس پر لکھا تھا ایک کپ کافی۔ ایسا لگتا تھا یہاں ایسا ہونا معمول ہے مگر ہمارے لیے یہ سب کچھ انوکھا اور ناقابل فہم تھا۔ کچھ دیر بعد ایک شخص اندر داخل ہوا جس کے کپڑے اس کافی شاپ کی حیثیت اور یہاں کے ماحول سے قطعی میل نہیں کھا رہے تھے۔ غربت اس شخص کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس شخص نے بیٹھتے ہی پہلے دیوار کی طرف دیکھا اورپھر بیرے کو بلایا اور کہا؛ ’’ایک کپ کافی دیوار سے لاؤ‘‘۔ بیرے نے اپنے روایتی احترام اور عزت کے ساتھ اس شخص کو کافی پیش کی۔ جسے پی کر یہ شخص بغیر پیسے دیے چلتا بنا۔ ہم یہ سب کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ بیرے نے دیوار پر لگے پرچوں میں سے ایک پرچہ اتار کر کائونٹرکے اندر رکھ دیا۔ اب ہمارے لیے اس بات میں کچھ چھپا نہیں رہ گیا تھا، ہمیں سارے معاملے کا پتا چل گیا تھا۔ اس قصبے کے باسیوں کی اس عظیم الشان اور اعلیٰ انسانی قدر نے ہماری آنکھوں کو آنسووں سے تر کر دیا تھا۔ اور ہم سوچنے لگے کہ کیا ہمارے پیارے ملک میں ایسا ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں