اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں رہنے والے تقریباً دو اررب مسلمان رمضان کے اختتام پر چاند دیکھتے ہیں، مسلمان قمری کیلنڈر کو مانتے ہیں، اس کیلینڈر میں تاریخوں کا انحصار چاند کی مختلف شکلوں میں نظر آنے پر پوتا ہے۔ رمضان اس کیلنڈر کے نویں مہینے میں آتا ہے۔ہر سال اس کیلینڈر میں تقریباً گیارہ دن کا فرق آتا ہے۔ قمری کیلنڈر مسلامانوں کے لیے بہت اہم ہے اور اسی کیلنڈر اور چاند کو دیکھ کر نہ صرف رمضان کی تاریخوں کا تعین کیا جاتا ہےبلکہ عید کون سے دن ہے اس کا فیصلہ بھی چاند دیکھ کر ہی
ADVERTISEMENT
کیا جاتا ہے۔مسلمان رمضان میں جو روزے رکھتے ہیں، اگر ان کا انحصار شمسی کیلنڈر پر ہوتا تو دنیا میں ہر جگہ رمضان مختلف اوقات اور مہینوں میں منایا جاتا۔ کچھ ملکوں میں یہ دسمبر میں آتا اور کچھ میں ممالک اسے جون میں مناتے۔لیکن قمری کیلنڈر کے حساب سے سارے مسلمان دنیا بھر میں رمضان ایک ساتھ مناتے ہیں۔ نہ صرف ایک ساتھ بلکہ بدلتی تاریخوں کی وجہ سے انھیں الگ الگ موسموں میں رمضان کا تجربہ ہوتا ہے۔عید کا دن قمری کیلنڈر کے دسویں مہینے شوال کی پہلی تاریخ کو آتا ہے۔ لیکن اسلام میں اس بات پر بحث ہوتی آئی ہے کہ عید کا اصل دن کونسا ہے اور اس کا تعین کیسے کیا جانا چاہیے۔ بہت سے ملکوں میں مسلمان، خود چاند دیکھنے کے بجائے اس ملک کے ان حکام پر انحصار کرتے ہیں جنھیں چاند دیکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔جبکہ کچھ لوگ اس دن کا تعین شمسی کیلنڈر دیکھ کر بھی کرتے ہیں۔ اور کہیں کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ علم فلکیات کی مدد سے نیا چاند دیکھتے ہیں۔پوری دنیا کبھی بھی ایک ہی دن عید نہیں مناتی۔ حالانکہ عید منانے کی تاریخوں میں زیادہ سے زیادہ ایک یا دو دن کا فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں عید کب ہوگی، اس کا فیصلہ تب کیا جاتا ہے جب عام عوام میں سے کچھ لوگوں کو چاند نظر آیا ہو۔بہت سے مسلم ممالک سعودی عرب کی دی ہوئی تاریخ پر ہی عید مناتے ہیں۔ لیکن شیعہ آبادی والے ملک ایران میں اس تاریخ کا تعین حکومت کرتی ہے۔جبکہ عراق، جہاں شیعہ اور سنی مسلمان دونوں آباد ہیں وہاں پر دونوں مسالک کے افراد اپنے اپنے مذہبی رہنماؤں کی تلقید کرتے ہیں۔عراق میں سن دوہزار سولہ میں پہلی بار شیعہ اور سنی مسلمانوں نے ایک ساتھ عید منائی تھی جبکہ ترکی جو کہ ایک سیکولر ملک ہے، عید کے دن کا تعین علمِ فلکیات کی مدد سے کرتا ہے اور یورپ میں مسلمان اپنی اپنی برادریوں کے رہنماؤں کے فیصلے پر عمل کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں