نیویارک (مانیٹرنگ ڈ یسک) کوکاکولاکوعام طورلوگ کولڈڈرنکس کے طورپربہت ہی شوق سے استعمال کرتے ہیں لیکن اب ایک حیرت انگیزانکشاف سامنے آیاہے کہ گورارنگ کے بعض لوگ اپنے رنگت کوکانسی کی طرح کرنے کےلئے کوکاکولاکااستعمال شروع کردیاہے اوروہ اپنی گوری رنگت کوکانسی کی طرح دکھانے کےلئے کوکاکولاسے نہاتے ہیں اورکوکاکولاسے نہانے کاسلسلہ کئ سالوں سے جاری ہےجبکہ اس کوکئی اورمقاصد کےلئے بھی استعمال میں لایاجاتاہے ۔اس کوڈرنگ سے زنگ کوصاف کیاجاتاہے اورٹوائلٹ کی صفائی کےلئے بھی انتہائی موثرہے اس لئے بعض لوگ اس کوٹوائلٹ کی صفائی کےلئے استعمال کرتے ہیں اوراب گالی رنگت کے بعض افراد اپنارنگ گوراکرنے کےلئے اس کواستعمال کررہے ہیں ۔اگرآپ کوکاکولا کواپنے جسم پرانڈیل دیں اوردھوپ میں بیٹھ جائیں توآپ
کارنگ کانسی کیطرح نظرآناشروع ہوجائے گا۔اس حوالے سے ڈائریکٹر آف کاسمیٹک اینڈ کلینکل ریسرچ ان ڈرماٹالوجی، ماؤنٹ سینائی ہوسپیٹل ، نیویاک، جوشوا زیشنر کا کہنا ہےکہ کوکا کولا کو جلد سے استعمال کرنے سے جلد کا رنگ کانسی ہوجاتا ہے لیکن یہ انسانی جسم کےلئے انتہائی نقصان دہ ہے اوراس سے پرہیزکرنی چاہیے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ کوکاکولاسے نہانے سے جلدعارضی طورپرتوکانسی رنگت کی ہوجاتی ہے لیکن اس میں جوتیزابی سوڈاہوتاہے وہ جسم کے خلیوں کومردہ کردیتاہے ۔واضح رہے کہ کوکاکولاوہ پراڈکٹ جس نے دنیا کو اس کا سب سے مقبول ذائقہ دیا اس کا جنم آٹھ مئی اٹھارہ سو چھیاسی کو اٹنلانٹا، جارجیا میں ہوا۔ جان سٹیتھ پیمبرٹن جو دوائیاں بنانے کا کام کرتے تھے انہوں نے کوکاکولا کا سیرپ تیار کیا اور اس نئی پراڈکٹ کا ایک جگ بھر کر اپنی گلی میں جیکب کی فارمیسی پر لے گئے۔جہاں اس کے نمونے کو چیک کیا گیااور اسے ‘‘شاندار’’ قرار دے کر ایک سوڈا فاؤنٹین ڈرنک کے طور پر پانچ سینٹ فی گلاس کے حساب سے فروخت کیلئے رکھ دیا گیا۔جب اس کے ساتھ کاربونیٹڈ پانی ملایا گیا تو یہ فوری طور پر ‘‘مزیدار اور تازدہ دم کرنے والی’’ ڈرنک بن گئی۔اور آج جہاں کہیں بھی کوکاکولا استعمال ہوتی ہے وہاں یہی الفاظ گونجتے سنائی دیتے ہیں۔ڈاکٹر پیمبرٹن کے پارٹنر اور ریکارڈکیپر فرینک ایم رابنسن کو یہ خیال آیا کہ ‘‘دو سی اشتہار کیلئے اچھے رہیں گے’’ چنانچہ انہوں نے یہ نام تجویز کیا اور مشہور ٹریڈمارک ‘‘کوکا کولا’’ کو اپنے انوکھے انداز میں لکھ دیا۔کوکا کولا کا پہلا اشتہار جلد ہی اٹنلانٹا جرنل میں شائع ہوا جس میں پیاسے شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ‘‘نئی اور مقبول سوڈا فاؤنٹین ڈرنک’’ کا ذائقہ بھی چکھیں۔ہاتھ سے بورڈز پر ‘‘کوکاکولا’’ لکھ کر انہیں سٹور پر لگا دیا گیا جبکہ اس کے ساتھ لفظ ‘‘ڈرنک’’ بھی لکھا گیا تھا تاکہ گزرنے والوں کو پتا چل سکے کہ نیا مشروب سوڈا فاؤنٹین تھا۔پہلے سال میں مشروب کی روزانہ فروخت نو ڈرنکس تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں