پاکستان میں ہر سال رمضان اور عید اسی کنفیوژن سے شروع ہوتی ہے اور پوری دنیا کے لوگ ہم پر ہنستے ہیں،آج کے دور میں جب سائنس نے مریخ سے لے کر چاند تک دنیا کی تمام بڑی مسٹریز حل کر لی ہیں، جب مریخ پر گاڑیاں تک پہنچائی جا چکی ہیں اور یہ ریسرچ ہو رہی ہے کہ مریخ کے کس کس حصے میں پانی موجود ہے ،اس دور میں ہم رمضان المبارک کے چاند کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں،آپ سائنس کا کمال ملاحظہ کیجئے کہ ناسا نے کچھ عرصہ پہلے چاند پر دو راکٹ داغے تھے،پہلے راکٹ کے بعد چاند کے ایک گڑھے سے مٹی اڑی ،جب کہ دوسرے راکٹ نے ناسا کے ماہرین کو بتایا کہ چاند کی اس زمین میں پانچ فیصد کے حساب سے پانی موجود ہے،اس تجربے کے دوران چاند پر 155 کلوگرام پانی کے بخارات اڑے جن سے سائنسدانوں نے یہ حساب لگایا کہ چاند کی ایک ٹن مٹی سے گیارہ سے بارہ گیلن پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس تجربے کے بعد چاند پر زندگی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں،جاپان کے سائنسدانوں نے اس سے بھی بڑا کمال کر دیا،ایک جاپانی ادارے شیروزکارپوریشن نے چاند سے ایک لاکھ تیس ہزار ٹیٹرا واٹ بجلی حاصل کرنے کا منصوبہ بنا لیا،یہ بجلی مائیکرو ویو کے ذریعے زمین پر لائی جائے گی اور یہ آدھی دنیا کی ضرورت پوری کرے گی جب کہ ہم لوگ ابھی تک رمضان کا چاند تلاش کر رہے ہیں آج کے سائنسی دور میں آپ دس ہزار سال پیچھے جا کر چاند کی پوزیشن کا اندازہ کر سکتے ہیں اور اسی طرح آپ مستقبل میں سن 4011 تک چاند کی حرکات و سکنات اور اینگلز کا تخمینہ لگا سکتے ہیں،اس وقت بھی چاند کی زیادہ تر پوزیشنز انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، آپ تھوڑی سی محنت سے اپنی لوکیشن اور اس لوکیشن پر چاند کی پوزیشن معلوم کر سکتے ہیں،پاکستان کی قریباً تمام یونیورسٹیز میں ریاضی اور فلکیات کے شعبے موجود ہیں،یہ شعبے بھی علماء کرام کی مدد کر سکتے ہیں اور یہ دونوں مل کر چاند کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر سکتے ہیں لیکن آپ بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ اس چھوٹے سے کام کے لیے ہمارے علماء کرام کے پاس وقت ہے اور نہ ہی ہمارے سائنس دانوں اور حکومت کے پاس چنانچہ ہر سال لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کا رمضان بھی خراب ہوتا ہے اور عید بھی اور یہ سلسلہ صدر ایوب خان کے دور سے چل رہا ہے،صدر ایوب خان کے دور میں ایک بار عید جمعے کے روز ہو رہی تھی،اچانک رات کسی نے صدر صاحب کو یہ بتا دیا کہ اگر کل دو خطبے ہو گئے تو آپ کا اقتدار زوال پذیر ہو جائے گا،صدر ایوب خان نے عید رکوانے کا حکم دے دیا چنانچہ رات بارہ بجے اگلے دن روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا گیا،اور اس اعلان کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک ختم نہیں ہو رہا ،یہ حالات عیسائی دنیا میں بھی ہوتے تھے،وہاں بھی مختلف ممالک میں کرسمس مختلف دنوں میں منائی جاتی تھی لیکن پھر ویٹی کن سٹی نے اِن شیٹو لیا اور پوپ نے 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا دن ڈیکلیئر کر دیااور اس کے بعد پوری عیسائی دنیا میں کسی جگہ کوئی کنفیوژن دکھائی نہیں دیا،ہمارے موجودہ کیلینڈر کو بھی آپ دیکھ لیجئے،یہ کیلینڈر پوپ دیت گوئی نے 1582 میں طے کیا تھا۔اور اسے شروع میں ہی عیسائی دنیا اور اس کے بعد پوری دنیا نے تسلیم کر لیا ہمارے علماء کرام یہ انیشیٹو کیوں نہیں لیتے یہ مل کر اس مسئلے کا حل کیوں نہیں تلاش کر لیتے،اسلام میں سحری اور افطار کے لیے نشانیاں دیکھنے یعنی روشنی کی لکیر اور اُفق کی لالی کے مشاہدے کا حکم ہے، لیکن ہم میں سے کوئی شخص یہ نشانیاں نہیں دیکھتا،ہم سحر اور افطار کے لیے سائرن اور اذان پر اکتفا کرتے ہیں اسی طرح تمام نمازوں کے لیے بھی نشانیاں طے ہیں لیکن ہم نماز پڑھنے کے لیے ہمیشہ کیلینڈر اور طے شدہ اوقات کا سہارا لیتے ہیں،ہم اگر نمازوں کے لیے اور سحر اور افطار کے لیے سائنس کی مدد لے رہے ہیں تو پھر ہم چاند دیکھنے کے لیے جدید ترین سائنس کی مدد کیوں نہیں لیتے ہم ہر رمضان پر پوری دنیا کو اپنا مذاق اڑانے کا موقع کیوں دیتے ہیں آپ اس سال یہ ضرور سوچیے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں