اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان کے سفارتی حلقوں نے سعودی عرب کے قائمقام سفیر مروان بن رضوان کے وزیراعظم نوازشریف کے قطر اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے کئے گئے دورے سے متعلق ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ اور سفارتی آداب کے منافی قراردے دیا ہے جبکہ سعودی سفارتخانے کے حکام کا موقف ہے کہ قائمقام سفیر کے بیان کو توڑ مروڑ کر میڈیا میں پیش کیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سعودی سفارتخانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائمقام سفیر مروان بن رضوان نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ انہیں ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے سعودی عرب کا دورہ کیوں کیا تھا اور ان کے دورے کے مقاصد کیا تھے ۔جب اس ضمن میں دفتر خارجہ اور سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سعودی قائمقام سفیر کے بیان کے غیر ذمہ دارانہ اور سفارتی آداب کے منافی قراردیا اور کہا کہ کسی بھی غیر ملکی سفارتکار کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الفاظ کے چناؤ میں بہت احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ دریں اثناء سعودی سفارتخانے کا موقف ہے کہ قائمقام سفیر کی پریس کانفرنس میں وزیراعظم نوازشریف کے خلیجی ریاستوں اور قطر کے درمیان ثالثی کیلئے کئے گئے دورہ سعودی عرب کے بارے میں بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔۔گزشتہ ر وزپاکستان میں قائمقام سعودی سفیر مروان بن رضوان سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کی پمز ہسپتال میں گزشتہ روز عیادت کی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے نیک خواہشات اور نیک تمنائوں کا پیغام پہنچا یا اور سعودی عرب نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیںسعودی عرب نے سانحہ مستونگ پر گہر ے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دیگر زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سانحہ کی تفصیلات سے سعودی قائمقام سفیر کو آگاہ کیا قائمقام سعودی سفیر نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کااظہار کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں