لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست پر بھارتی آگ بگولہ ہوگئے جس کاانکشاف سوشل میڈیاپروائرل ایک ویڈیومیں ہواہے اس ویڈیومیں دیکھاجاسکتاہے کہ بھارتی شہریوں کے ایک گروہ نے پاکستانی قومی ٹیم کی شرٹ میں ملبوس ایک شخص پرتشددکیاہے اوربعد میں یہ انکشاف ہواہے کہ اس شخص نے ہی نے بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں سے طنزاً یہ سوال کیا تھا کہ ”باپ کون ہے؟“ ۔میچ ختم ہونے کے بعد بھارتی ٹیم پویلین لوٹ رہی تھی تو وہاں کھڑے اس پاکستانی نے ان پر جملے کسے۔ میچ کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ویرات کوہلی
ADVERTISEMENT
وہاں سے گزرے تو وہ کہہ رہا تھا کہ ”اکڑ ٹوٹ گئی اس کی۔“ اس کے بعد محمد شامی اور دیگر کھلاڑی وہاں سے گزرنے لگے تو اس نے کہا ” باپ کون ہے؟“۔جس پربھارتی کھلاڑی تلما گئے اس دوران محمدشامی کوبہت غصہ آگیااوراس نے پاکستانی شہری کی جانب آنے کی کوشش کی تاہم مہندرا سنگھ دھونی نے انہیں روک لیا۔ تاہم یہ ویڈیو بنانے والا پاکستانی شائد نہیں جانتا تھا کہ ایسا کرنے پر بھارتی اسے سٹیڈیم کے باہر گھیر لیں گے اور تشدد کریں گے اور پھر جب وہ سٹیڈیم سے باہر نکلا تو بڑی تعداد میں وہاں موجود بھارتیوں کے گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اورلندن پولیس حرکت میں آگئی اوراس پاکستانی شہری کوبچالیااوربھارتیوں کوکنارہ کرنے کاکہا۔دوسری طرف پاکستان سپر لیگ 2017کو داغدار کرنے میں بھارت کا شرمناک ہاتھ سامنے آ گیا ،سنسنی خیز انکشاف کے مطابق سکینڈل کے مرکزی کردار کا تعلق بھارت ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹیسٹ کرکٹر ناصر جمشید کی ڈوریں کسی اورشخص کے ہاتھ میں تھیں جس کے تعلقات بھارتی بکیوں کے ساتھ ہیں ، اسے بھی پولیس نے ضمانت پر رہا کر رکھا ہے۔ناصر جمشید نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے گرفتارہونیوالے پہلے شخص تھے جن پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ میں مدد فراہم کی، دوسرا گرفتار شخص یوسف انور نامی بی کیٹیگری کا کرکٹر ہے جو گریٹ مانچسٹر کے کئی کلبوں کی جانب سے کھیل چکا ہے،دونوں کو 13 فروری کوسپاٹ فکسنگ کیس سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق 23 فروری کو شیفیلڈ سے ایک برطانوی شہری کو بھی گرفتار کیا گیا، اس شخص کا نام تاحال سامنے نہیں آ سکا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں