قیام پاکستان سے قبل جب سلطنت انگلشیہ کو ہندوستان پر واحد حاکمانہ اختیارات حاصل تھے تو ملک کے مختلف صوبوں، ریاستوں اور قوموں سے مختلف قسم کے تعلقات بھی ہوتے تھے۔ جس سے خودمختار ریاست کی حکمرانی میں انگریز کا عمل دخل بخوبی قائم و دائم رہتا تھا چنانچہ بعض والیان ریاست سے یہ معاہدہ کچھ اس شکل میں تھا کہ ریاست کے وزیراعظم کی تقرری وائسرائے ہند کے حکم نامہ کے ماتحت ہوا کرے گی اور وہ جس شخص کو چاہیں گے ریاست کا وزیراعظم مقرر کریں گے۔اس طرح نامزد ہونے والا وزیراعظم بظاہر ریاست کے نواب کے ماتحت ہوتا لیکن درپردہ وائسرائے ہند کے تمام احکام کے مطابق ریاست کا نظم و نسق چلاتا تھا۔ وزیراعظم کے ہاتھ میں نواب ایک کٹھ پتلی رہ جاتا۔ چنانچہ ریاست بہاولپور میں بھی جو وزیراعظم بنا کر بھیجا جاتا تھا وہ وائسرائے بہادر کے حکم کے ماتحت متعین ہو کر بہاولپور جاتا اور ریاست پر انگریز حکمرانی کا ذریعہ بنتا تھا۔ …. ان دنوں ریاست بہاولپور میں جو صاحب وائسرائے ہند کی طرف سے نامزد وزیراعظم تھے۔ ان کی اور نواب بہاولپور میں بنتی نہ تھی، وہ ایک دوسرے کی ضد تھے۔ پہلے تو خود نواب صاحب وائسرائے بہادر کو شکایتیں لکھتے رہے کہ موجودہ وزیراعظم سے میری جان چھڑائی جائے مگر شنوائی نہ ہوئی۔ مجبور ہو کر نواب صاحب کو ڈاکٹر سر محمد اقبال کو جو بیرسٹر بھی تھے اس مقصد کے لیے اپنا وکیل بنانا پڑا۔ ان کے بعض رفقاءنے انہیں مشورہ دیا کہ ممکن ہے کہ سر اقبال کی وکالت سے ان کی مقصد براری ہو جائے چنانچہ نواب صاحب کا ایک آدمی علامہ کے پاس پہنچا اور صورت حال بیان کی۔ ڈاکٹر صاحب نے معاملہ کو بہ حیثیت بیرسٹر جانچا پھر ہامی بھر لی اور چار ہزار فیس مقدمہ کی طے پائی۔ چنانچہ علامہ اقبالؒ لاہور سے دہلی روانہ ہوئے اور اسٹیشن سے سیدھے وائسرائے بہادر کے دفتر میں جا پہنچے اور سیکرٹری کو اپنا کارڈ دیا۔سیکرٹری نے کہا کہ قاعدہ یہ ہے کہ ہر ملاقاتی اپنا نام رجسٹر میں لکھتا ہے اس کے بعد رجسٹر اندر بھجوایا جاتا ہے جسے بلانا مقصود ہوتا ہے اسے بلایا جاتا ہے لہٰذا آپ بھی کارڈ دینے کی بجائے رجسٹر میں اپنا نام لکھیں۔ اس پر اقبال نے کہا: ”وائسرائے میرے کارڈ پر ملنا نہ چاہیں گے تو میں واپس چلا جاؤں گا مگر عام لوگوں کی طرح رجسٹر میں اپنا نام نہ لکھوں گا۔“ مجبوراً سیکرٹری کو کارڈ لے کر اندر جانا پڑا۔وائسرائے نے کہا ”میں ان سے ملوں گا انہیں بٹھایا جائے۔“ تھوڑی دیر بعد وائسرائے ملاقاتیوں کے کمرے میں آئے…. ملاقات ہوئی۔ وائسرائے نے آمد کا سبب پوچھا ”کیسے آنا ہوا؟“ علامہ اقبالؒ نے کہا کہ وہ بہ حیثیت ایڈووکیٹ ریاست بہاولپور کے نواب صاحب کی طرف سے پیش ہوئے ہیں۔ ریاست کا وزیراعظم آپ کے حکم سے ریاست میں متعین تو ہے مگر نواب صاحب اور وزیراعظم میں تعلقات خوشگوار نہیں ہیں جس سے نواب صاحب کو بھی تکلیف ہے اور کاروبار سلطنت میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔وائسرائے بہادر نے فرمایا ”مگر یہ سب کچھ ضابطہ کے مطابق ہے اور نواب صاحب کو اسے پسند کرنا چاہئے۔“ علامہ اقبالؒ نے کہا کہ ”معاملہ تو بالکل معمولی ہے، حکمران کی سیاست کا منتہا یہ ہونا چاہئے کہ وائسرائے اور ریاست کے درمیان تعلقات انتہائی خوشگوار ہوں۔ ان تعلقات کی سلامتی اور ترقی سے حکومت انگلشیہ اور حکومت بہاولپور کے تعلقات میں روز افزوں اضافہ ہوگا مگر وزیراعظم کی دراندازی اور ناقبولیت سے اس عظیم مقصد کو نقصان پہنچے گا۔آپ کو اپنی پالیسی کی مرکزی قوت بحال رکھنے کے لیے ایسے فروعی معاملات پر وزیراعظم کی حمایت ترک کر دینی چاہئے۔ اگر آپ اس وزیراعظم کو وہاں سے تبدیل فرما دیں اور کوئی دوسرا شخص ریاست میں وزیراعظم مقرر کر دیں جو نواب صاحب کو بھی پسند ہو تو اس سے حکومت انگلشیہ کے وقار میں کوئی ضعف نہیں پہنچتا بلکہ استحکام ملتا ہے۔“ اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں اور وائسرائے بہادر نے وعدہ فرما لیا کہ وہ وزیراعظم بہاولپور کی تبدیلی کے احکام جاری کریں گے۔وائسرائے کو ایک تو علامہ اقبالؒ کے مرتبے کا علم تھا دوسرے علامہ نے بات بھی ڈھب سے کی تھی کہ وائسرائے کو انکار کرتے نہ بنی۔ جب یہ بات طے ہو گئی تو وائسرائے نے کہا کہ ”آپ پرسوں میرے ساتھ ڈنر کھائیں۔“ علامہ نے فرمایا ”مجھے تو آج واپس جانا ہے۔“ ”اچھا تو کل سہی۔“ ”مگر میں تو آج ہی واپس جاؤں گا، کل تک نہیں ٹھہر سکتا۔“ وائسرائے نے کہا ”میری خواہش تھی کہ آپ کے ساتھ کھانا کھانے کی بھی خوشی حاصل کرتا۔“ ”اگر یہ خواہش ہے تو کھانا آج بھی کھا سکتے ہیں۔“(کسی بڑے سے بڑے افسر، لیڈر یا والئی ریاست کو مجال نہ تھی کہ وہ وائسرائے کے حکم کے خلاف زبان بھی کھول سکتا، لیکن اقبال وائسرائے کی بات رد کرنے یا اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی ہمت رکھتے تھے۔) چنانچہ وائسرائے بہادر نے علامہ کو دوسرے کمرہ میں جگہ دی اور وہیں دوپہر کے بعد علامہ کے ساتھ وائسرائے نے ڈنر کھایا اور علامہ اسی شب لاہور واپس چلے آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں