اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شیر میسور ٹیپو سلطان کا نام بہادری اور جرات کی مثال کے طور پر مشہور رہے لیکن ان کا ایک اور تعارف یہ بھی ہے کہ ان کی فوج نے دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ بارود سے چلنے والا راکٹ استعمال کیا جس نے انگریز فوج کے چھکے چھڑا دئیے۔ان راکٹوں کی بنیاد ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کے دور اقتدار میں رکھی گئی لیکن ٹیپو سلطان نےانہیں دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار بنادیا۔اٹھارہویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج ہندوستان فتح کرتی چلی جا رہی تھیں ، ہندوستان کو فتح کرنے کیلئے ان کی

ADVERTISEMENT

پیش قدمی میں رکاوٹ ریاست میسور بنی ۔ جس کے حاکم مشہور مسلمان بادشاہ سلطان ٹیپو تھے ۔ ٹیپو سلطان کی جنگی حکمت عملی نے انگریز افواج کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے تھے۔ریاست میسور اور برطانوی افواج میں ہونے والی دوسری جنگ میں انگریز فوج کی کمان کرنے والے کرنل ولیم بیلی کو دوران جنگ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی فوج پر آسمان سے کیا قیامت برس رہی ہے۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ میسوری فوج کے راکٹوں نے انگریزی فوج کے اسلحہ خانوں کو اڑا کر رکھ دیا اور جنگ میں ڈھیروں وسائل اور کثیر تعداد کے باوجود ریاست برطانیہ کو شرمناک شکست ہوئی۔ اس کے بعد میسور کی تیسری جنگ میں بھی ان راکٹوں کا شاندار استعمال کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب برطانیہ اور یورپ میں ہلکے پھلکے راکٹ بنائے جاتے تھے جن کا خول گتے یا لکڑی کا ہوتا تھا جس کی وجہ سے یہ بہت کم طاقت کے حامل تھے۔ اس کے برعکس ٹیپو سلطان کے راکٹوں کا خول لوہے سے بنایا جاتا تھا اور ان میں زیادہ بارود بھرا جاتا تھا۔ان کے ساتھ تلواروں جیسے تیز دھار بلیڈ بھی لگائے جاتے تھے اور ان کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ یہ دو کلومیٹر کے فیصلے تک عین نشانے پر لگتے تھے۔انہیں چلانے کیلئے فوجیوں کو خصوصی تربیت دی جاتی تھی اور علیحدہ سے راکٹ بریگیڈ قائم کی گئی تھی جس کے پاس پہیوں والے راکٹ لانچر بھی ہوتے تھے۔ یہ لانچر بیک وقت درجن بھر راکٹ چلاتے تھے جو دشمن کی افواج پر گرتے وقت گھومنا شروع کردیتے تھے اور یوں درجنوں فوجیوں کو لمحوں میں کاٹ کر رکھ دیتے تھے۔فوجی راکٹ چلانے سے پہلے اس کے وزن اورٹارگٹ کے فاصلے کی بنیاد پر اسے چھوڑنے کے زاویے کا یقین کرتے تھے اور ان کی تربیت اتنی اعلیٰ تھی کہ راکٹ عین نشانے پر گرتے تھے ۔انگریز فوج نے 4مئی 1799ءکو میسور پر قبضہ کیا تو وہ ٹیپو سلطان کی فوج کا بارود خانہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ انہوں نے اس طرح کے راکٹ پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ انگریز جرنیل ڈیوک آف ویلنگٹن ولزلی نے فوراً سے پہلےیہ راکٹ برطانیہ پہنچائے جہاں ان پر مزید تحقیق کی گئی اور برطانوی افواج کو جدید راکٹ ملے ۔ یہ بات بھی لائق تحسین ہے کہ جدید میزائل ٹیکنالوجی بھی اسی راکٹ کے مرہون منت ممکن ہوئی۔ٹیپو سلطان کے راکٹوں کی عالمی سطح پر پذیرائی کے بعد اب بھارتی ریاست کرناٹکا میں واقع ان کے سرنگا پٹم قلعے کو راکٹ میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں دنیا کےپہلے راکٹوں سے لے کر آج کے جدید میزائل تک کی جنگی ٹیکنالوجی کو رکھا جائے گا تاکہ عظیم مسلمان جرنیل کو ان کے شایان شان خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں