کہتے ہیں ایک طوطے اور طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا۔ ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے پوچھا ’’کس قدر ویران گائوں ہے؟‘‘طوطے نے کہا’’لگتا ہے یہاں کسی الو کا گزر ہوا، جس کی نحوست سے بھرا، پُرا گائوں ویران ہو گیا‘‘۔ جس وقت طوطا اور طوطی یہ باتیں کر رہے تھے۔ ایک الو بھی وہاں سے گزر رہا تھا جس نے یہ گفتگو سنی تو رک گیا اور بولا تم لوگ گائوںمیں مسافر لگتے ہو، آج رات میرے پاس ٹھہرو، کھاناکھائو، کل چلے جانا، الو کی محبت بھری دعوت کو دونوں نے ٹھکرانا مناسب نہ سمجھا اور

ADVERTISEMENT

رک گئے۔ صبح جب اظہار تشکر کے بعد دونوں چلے لگے تو الو نے طوطی کو روک لیا کہ تم کہاں جا رہی ہو۔ طوطی بولی ، طوطے کے ساتھ جا رہی ہوں، مجھے اس کے ساتھ ہی جانا ہے۔ الو نے کہا مگر تم توطوطی نہیں میری بیوی ہو، یہاں رہو۔ طوطے کے ساتھ جانے کی ضد نہ کرو۔ طوطا بہت بگڑا اور کہنے لگا یہ تم کیا کہہ رہے ہو، اپنی ہیئت کذائی، رنگ دیکھو پھر طوطی کو اپنی بیوی کہو۔ ہم دونوں کو پریشان نہ کرو اور جانے دو۔ معاملہ بـڑھا تو الو نے تجویز پیش کی کہ آپس میں جھگڑنے کے بجائے ہم قاضی کے پاس چلتے ہیں۔ قاضی کا فیصلہ ہم دونوں کو قبول ہو گا۔ یہ معقول تجویز سن کر طوطا مان گیا۔ تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا۔ الو اور طوطے کی ساری داستان سن کر قاضی نے فیصلہ سنایا کہ بادی النظر میں الو کا موقف درست ہے۔ طوطا معقول شواہد پیش نہیں کر سکا۔لہٰذا طوطی ، طوطے کے ساتھ جانے کی ضد نہ کرے اور اُلو کی بیوی بن کر رہے۔ بے انصافی پر طوطا بہت تلملایا۔ مگر قاضی کا فیصلہ تھا ماننا پڑا اور طوطی کو چھوڑ کر اپنی راہ لی۔ طوطا ابھی زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اُلو نے اسے روکا اور کہا بھائی، اپنی طوطی تو لیتے جائو،جو تمہاری بیوی ہے۔ طوطا حیران ہو کر بولا اب مزید مذاق کرو نہ میرے زخموں پر نمک چھڑکو، عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ میری نہیں، تمہاری بیوی ہے۔ اُلو نرمی سے بولا، نہیں دوست یہ میری نہیں، تمہاری بیوی اور طوطی ہے تم کو مبارک ہو۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں اور گائوں اُلو ویران نہیں کرتے۔ ویرانی تب ڈیرے ڈالتے ہی جب ان بستیوں سے انصاف اٹھ جاتا ہے اور بے انصافی کا دور، دورہ ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں