ایک نجومی نے اپنے دل میں یہ پکا ارادہ کر لیا کہ جس مشہور و معروف عالم نے باکمال حکیم شیخ الرئیس بوعلی سینا کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا‘ وہ ان ہی کا شاگرد بنے گا اور ان سے اتنا علم حاصل کرے گا کہ اپنے حاصل شدہ علم کو چار چاند لگا سکےچنانچہ وہ ایک لمبے ترین سفر کے بعد شیخ کے استاد محترم حکیم کوشیار کے پاس پہنچ گیا۔اصل واقعہ یہ تھا کہ یہ نجومی علم و ہنر کے لحاظ سے نہایت معمولی درجے پر فائز تھا لیکناپنی بابت اسے یہخوش فہمی تھی کہ وہ

بہت عالم فاضل ہے‘استاد کوشیار کو ایک ہی نظر میں یہ بات پتہ چل گئی کہ یہ شخص نہایت مغرور اور خود پرست ہے‘انہوں نے اس کی انہی صفات کی بنا پر اسے یوں نظر انداز کر دیا جیسے کہ وہ محفل میں موجود ہی نہ ہو۔نجومی کئی دن اس درسگاہ میں ٹھہرا رہا لیکن جب استاد کی نظر کرم حاصل کرنے میں ناکام رہا تو وہاں سے واپسی کا ارادہ باندھ لیا‘ جب وہ جانے لگا تو استاد کوشیار نے اس سے پہلی بار کلام کرتے ہوئے کہا ’’تو یہاں سے خالی ہاتھ جا رہا ہے کیونکہ تو اپنی دانست میں خود کو بہت بڑا علامہ سمجھتا ہے‘

اپنا تبصرہ بھیجیں