حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ کا ایک مدرسہ تھا، وہ دہلی سے اٹھارہ میل دور غازی آباد میں واقع تھا، وہ کئی ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا مدرسہ، آج بھی چل رہا ہے، اس مدرسے کے ناظم سے اس عاجز کی کسی نہ کسی ملک میں ملاقات بھی ہو جاتی ہے، وہ حالات سناتے رہتے ہیں، الحمدللہ! وہ بھی حضرت کے لیے صدقہ جاریہ ہے،اس مدرسے کا واقعہ ’’تجلیات‘‘ نامی کتاب میں لکھا ہے کہ جب تقسیم ہند کا وقت آیا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔اس مدرسے کے ایک استاد سکھوں کی بستی کے قریب سے گزررہے تھے، ایک سکھ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: میاں جی!۔۔۔ یہ سکھ کسی مسلمان کو دیکھتے ہیں تو اسے میاں جی کہتے ہیں اور ہم انہیں دیکھ کر سردار جی کہتے ہیں۔۔۔ اس نے کہا: میاں جی! کیا آپ نے اپنی حفاظت کے لیے کوئی فوج بلوائی ہوئی ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا، ہماری بستی کے سکھ تین مرتبہ تلواریں اور دوسرے اسلحہ لے کر اس مدرسے کے مسلمانوں کو لوٹنے اور مارنے کے لیے نکلے ہیں، لیکن جب بھی ہم اس کے قریب پہنچتے تھے تو ہمیں فوجی چاروں طرف پہرہ دیتے نظر آتے تھے، یہ خدائی فوج ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کی دشمنوں سے حفاظت فرما دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں