حضرت یوسفؑ کو اللہ پاک لڑکپن میں کنویں کے اندر ڈلوا دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے مغرب کے قریب کنویں میں ڈالاتھا اس کے بعد اندھیرا ہوگیا، اس لیے جب بھائی واپس اپنے والد کے پاس آئے تھے تو عشاء کے وقت روتے دھوتے پہنچے تھے تو سیدنا یوسفؑ چھوٹے بچے تھے، اکیلے تھے، تنہائی تھی، اندھیری کی وجہ سے بھی ڈر لگ رہاتھا،کہتے ہیں کہ جب سحری کا وقت ہوااورتھوڑی تھوڑی روشنی آنے لگی تو حضرت یوسفؑ کو امید نظر آئی کہ اندھیرا ختم ہوجائے گا اور میرے بھیکنویں سے نکلنے کا ذریعہ بن جائے گا تو انہوں نے دعا کی، اے اللہ! میری بھی مشکل کو آسان کر دے اور انسانوں میں جتنے بھی مشکلات میں گرفتار ہیں سب کی مشکلات کو آسان کر دے، اللہ نے یوسفؑ کی دعا کو اس طرح قبول کیا کہ بیمار آدمی ہو توتہجد کے وقت اس کی بیماری کا لیول کم ہو جاتاہے، اگر پریشان بندہ ہو تہجد کے وقت پریشانی کم ہو جاتی ہے، غم کم ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلم کی دعا کو اس طرح قبول کیا کہ تہجد کے وقت بھی اللہ تعالیٰ ہر بندے کے کرب کو کم کرکے اس کو سکون عطا فرما دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو دیکھئے اور اس کے سامنے جھک جائیے۔*۔۔۔ حضرت زکریاؑ اللہ کے پیغمبرتھے، دنیا میں سر کے اوپر آرا چل رہا ہے، اللہ اکبر، اللہ آپ اپنی عظمت دکھاتے ہیں کہ ایک نبی کے سرپر آرا چلایاگیا اور ان کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیے گئے۔*۔۔۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام کی گردن کوکاٹاگیا، حضرت یونسؑ کو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ کے اندر گرفتار فرما دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں