حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ میرا چھوٹا بیٹا سیف اللہ جب حافظ بن رہاتھا تو اس کا معمول تھا کہ ایک صفحہ روزانہ سبق لیتا تھا اورتقریباً اٹھارہ سے بیس دن کے درمیان ایک پارہ مکمل کر لیتا تھا، ہم بھی سمجھتے کہ یہ مناسب سپیڈ ہے، چلو پڑھنے دیناچاہیے لیکن جب آخری پانچ چھ پارے رہ گئے، ان دنوں ہمارا عمرہ پر جانے کا بھی پروگرام تھا،اس کو ہم نے کہا کہ آپ کوشش کریں کہ کسی طرح آپ کا قرآن مجید جلد مکمل ہو جائے، خیر! اس نے کوشش کرکے پاؤ پاؤ سبق لیناشروع کردیا، اس طرح اس نے چاردنوں کے اندر ایک پارہ حفظ کرنا شروع کر دیا۔جب عمرے پر جانے کا وقت تھا تو اس کو کسی نے یہ کہا: دیکھو! ابھی دو چار دن باقی ہیں اور آپ کے تین پارے رہتے ہیں، اگر آپ یہ یاد کر لیں تو عمرے کے موقع پر ہم احرام کی حالت میں مقامِ ابراہیم کے قریب بیٹھ کرآپ کے لیے دعا کریں گے، اس بچے کو یہ بات سمجھ میں آ گئی، چنانچہ اس نے ان تین پاروں کو یاد کرنا شروع کر دیا، جب اس نے دو پارے مکمل کر لیے، اس دن ہمارا عمرے کا سفر تھا، ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچ گئے، اب ایک دن رہتاتھا، کیونکہ ہم نے اگلے دن عمرہ کرنا تھا، تو اس نے کہا: ابوجی! میں کوشش کروں گا کہ مکمل کر سکوں، چنانچہ وہ فجر کی نماز کے بعد بیٹھا اور اس نے ایک مرتبہ ایک پاؤ سنایا، پھر تھوڑی دیر بعد دوسرا پاؤ یاد کرکے سنایا، پھر تیسری مرتبہ بھی پاؤ سنایا اوربالآخر چوتھی مرتبہ بھی آخری پاؤ سنا دیا، ہم نے اس کا آخری سبق مقام ابراہیم کے پاس بیٹھ کر سنا اور پھر ہم نے اس بچے کے لیے دعائیں کیں۔حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ہماری ایک شاگردہ تھی، اس کی شادی ہوئی،اللہ نے اس کو بیٹا دیا، اس کے خاوند قاری صاحب تھے، ایک مرتبہ وہ اپنے بیٹے کو لے کر آئے، کہنے لگے: حضرت! ہم نے اس کے لیے دعا بھی کروانی ہے اور اس بچے نے آپ کو اپنا سبق بھی سنانا ہے، دیکھنے میں وہ بچہ کافی کمزور اور چھوٹاسا لگ رہاتھا، میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ بچہ کلمہ پڑھے گایا پھر کوئی چھوٹی سی سورت پڑھے گا، یہی اس کا سبق ہوگا لیکن جب میں نے اس سے کہا، پڑھو!تو اس کے والد صاحب نے کہا کہ اس کی امی نے کہا ہے کہ حضرت صاحب کو کھڑے ہو کر سنانا ہے، ہم نے کہا، ٹھیک ہے اس کو کھڑا کر دیں، وہ بچہ اتنا چھوٹا تھا کہ وہ اپنے دونوں پاؤں پر خود کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا، اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ اس بچے کی عمر کتنی چھوٹی تھی کہ جو بچہ اپنی چاہت اور شوق سے کھڑا بھی نہیں ہو سکتا، اس قدر وہ چھوٹا بچہ تھا، میں نے ان سے کہا کہ اس کو بٹھائیں تاکہ یہ سبق سنائے،انہوں نے کہا: جس ای کی امی نے کہا ہے کہ یہ کھڑا ہو کر سبق سنائے گا، ہم نے کیا کیا؟ دو گول تکیے منگوائے اور دیوار کے ساتھ لگا دیے اوراس بچے کو درمیان میں کھڑا کردیا کہ چلو تم درمیان میں کھڑے ہو کر تکیے سے ٹیک لگا لو اور پھر ہمیں سبق سناؤ، چنانچہ اس نے تکیے سے ٹیک لگائی اور اس کے بعد اس بچے نے اپنا سبق پڑھنا شروع کردیا،اتنے چھوٹے سے بچے نے (جو اپنے پاؤں پر کھڑابھی نہیں ہو سکتا تھا) تَبَارَکَ الَّذِیْ سے پڑھنا شروع کیا اور پوری کی پوری سورۂ ملک اس نے زبانی سنا دی، میں اس بچے کو دیکھ کر حیران ہو گیا کہ جو اتنا چھوٹا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑاہو کر اپنا وزن بھی نہیں اٹھاسکتا، لیکن اس بچے کو بھی اللہ تعالیٰ نے پوری سورۂ ملک یاد کرا دی۔حفظ قرآن کا تعلق شوق اور لگن سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں