ایک بہت کامیاب کمپنی کے سی ای او نے یہ بات سمجھ لی کہ اب وہ بہت بوڑھا ہو گیا ہے اور اس کے زیادہ سال باقی نہیں بچے۔ اس نے اپنے بیٹے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کو سی ای او بنانے کے بجائے سوچا کہ کمپنی کے مستقبل کے لیے کیا بہتر ہو گا۔ وہ ایک دور اندیش آدمی تھا، اس نے اپنے تمام جوان اور نئے ایگزیکیٹو بلا لیے۔ اس نے سب کو ہال میں جمع کیا اور اعلان کیا کہ اگلے سال وہ اپنے عہدے سے فارغ ہو جائے گا اور وہ کوئی قابل، ہونہار اورسچا آدمی اپنی کرسی پر بٹھا کر جانا چاہتا تھا۔اس نے بتایا کہ میں اپنے بیٹے یا رشتہ داروں کا انتخاب نہیں کر رہا کیونکہ وہ دیانتدار نہیں ہیں اور اس کمپنی کے تمام ملازمین کی روزی روٹی اس کمپنی سے ہے اور وہ ان کا مستقبل کسی کمزور کے ہاتھوں میں نہیں دے گا۔ اس نے سب کو ہال میں جمع کر کے بتایا کہ تم سب کے میری جگہ سی ای او بننے کے ایک سے چانسز ہیں۔ بس ایک کام کرنا ہو گا اور اسی میں میں تم لوگوں کی صداقت ، ایمانداری اور مستقل مزاجی جانچوں گا۔ سب بہت تجسس سے اپنے سی ای او کا منہ تک رہے تھے۔ وہ بولا کہ تم میں سے ہر ایک کو میں ایک ایک بیج دے رہا ہوں اور تم سب کو اپنے اپنے بیج کو روز پانی دینا ہے اور اس کی مکمل نگہداشت کرنی ہے۔ اس کا اتنا خیال رکھو کہ اس سے ایک تناور درخت نکل آئے۔اس نے بولا کہ پورا سال تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیج کی خوب خدمت کرے گا اور اس کے بعد سب کے پودے دیکھیں گے اور جس کا پودہ سب سے تروتازہ ہو گا وہ جیت جائے گا اور اس کو اس کمپنی کا سی ای او لگا دیں گے۔ انہوں نے اپنا اپنا بیج لیا اور چلتے بنے۔ گھر جا کر سب نے اپنا اپنا بیج گملے میں لگا دیا اور اس کو خوب پانی دینے لگے۔ میں بھی اپنا بیج لے گیا اور جا کر اپنی بیوی کو ساری کہانی سنا دی۔ وہ بھی بہت خوش ہوئی اور ہم دونوں نے اپنے بیج کا حد درجہ خیال رکھا۔ دو ہفتے گزر گئے اس سے کسی قسم کا کوئی بیل ،بوٹا، پتہ، تنا نہیں نکلا۔ میں اور میری بیوی بہت پریشان تھے۔ آفس میں روز کوئی نہ کوئی اپنے پودے کی تعریفیں کرتا رہتا اور بتاتا کہ اس کا اتنا بڑا اور حسین پودا نکل آیا ہے۔ روز کی ایک ہی بات آفس کی دیواروں میں گردش کرتی رہتی تھی۔ ایسے میں میں بہت پریشان تھا کہ آخرمیرا بیج کیوں نہیں پھوٹ رہا۔ اسی اثناء میں چھے مہینے گزر گئے اور تب بھی میرے گملے میں کچھ نمودار نہ ہوا۔ میں اور میری بیوی امید ہار چکے تھے ہم نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی سی ای او نہیں بن سکتا لیکن میری بیوی اور میں پھر بھی ہر روز دن میں دو بار اس کو باقاعدگی سے پانی بھی ڈالتے اور اس کو اچھی دھوپ میں رکھتے تھے۔آ خر کار وہ منحوس دن آگیا جب سب کو اپنا اپنا پودا لے کر آفس جانا تھا۔ پورا سال بیت چکا تھا اور میرے گملے میں ابھی تک کچھ بھی نہیں نکلا تھا۔ میں بھی ویسا گملہ ہی لے کر آفس کے ہال میں پہنچ گیا۔ جا کر دیکھا تو ہر ایک کے گملے میں خوبصورت سے خوبصورت ترین، تروتازہ پودے نکلے ہوئے تھے، کچھ کے پودے تو درخت بننے کے قریب تھے۔ میں چپ کر کے ایک طرف بیٹھ گیا اور اپنا گملہ اپنے پیچھے چھپا لیا۔ میرے جس جس ساتھی نے بھی میرا خالی گملہ دیکھا وہ ہنسنے لگے۔لوگ میرا مزاق اڑا رہے تھے اور میرا دل اتنی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ دل کر رہا تھا کہ کہیں بھاگ جاؤں۔ تھوڑی دیربعد ہمارے سی ای او صاحب تشریف لے آئے اور آکر لوگوں کے گملے دیکھتے ہوئے سٹیج پر چلے گئے۔ انہوں نے باری باری سب کے نام اناؤنس کیے اور ساتھ ساتھ ان کے پودے دیکھتے رہے۔ سب کا جائزہ لے لیا۔ اتفاق سے میری باری آخر میں آئی ، میں سر جھکا کر آگے گیا اور اپنا خالی گملہ سٹیج پر رکھ دیا۔ دل کر رہا تھا کہ زمین میں گڑھ جاؤں۔ خیر میرے باس نے دیکھا اور سر ہلا دیا۔میں واپس اپنی سیٹ کی طرف ہال کے آخر میں چلا گیا۔ سی ای او صاحب نے میرا نام لے کر بولا کہ تم کھڑے رہو اور باقی سب بیٹھ جائیں۔ سب بڑی خوشی سے اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ میں کافی ڈر گیا تھا مجھے یقین تھا کہ آج مجھے فائر کر دیں گے۔ باس نے بولا کہ آج سے ہماری کمپنی کا سی ای او جیفری ہو گا۔ میں اپنا نام سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ میرے باس کو جانے کیا ہو گیا تھا جو ایسی بات کر رہے تھے۔ سب حیرت سے میرے گملے کو دیکھ رہے کہ اس کاگملہ تو خالی ہے تو اس کو کیوں سی ای او بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے بولا کہ میں نے آپ سب کو ابلے ہوئے بیج دیے تھے تاکہ سب کی صداقت کا امتحان لے سکوں۔ابلا ہوا بیج کبھی بھی نہیں اگ سکتا اور اس کا مطلب صاف تھا کہ باقی سب نے لالچ میں اپنے اپنے بیج بدل دیے تھے اور صرف جیفری میں اتنی ہمت تھی کہ ایک ایسے پودے کو پانی دیتا رہا جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ صرف یہی نہیں اس میں اتنی ہمت تھی کہ ناکام ہونے کے باوجود وہ کسی قسم کا جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ باقی سب نے سوچا کہ دکھاوا کیا جائے لیکن اس میں یہ عیب بھی نہیں تھا۔اس سے حاصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو اگر لیڈر بنانا ہو اور اسے باقی ساری رعایا کی ذمہ داری سونپنی ہو تو اس کے لیے ایک صادق، امین اور بلند حوصلہ آدمی چاہیے ہوتا ہے ۔کو ئی ایسا انسان جو ناکامی کو دیکھ کر اسے ماننے کی ہمت نہ رکھتا ہو کبھی اچھا لیڈر نہیں بن سکتا۔ جیفری نے اس کمپنی کی باگ ڈور اتنی بخوبی سنبھالی کہ کمپنی کو مزید کامیابی سے سرشار کر دیا۔ انسان جو ہو اور جیسا ہو، اپنے آپ کو وہی ظاہر کرے تو اس کی عزت ہے، اگر کوئی انسان اپنے آپ کو کچھ اور بنانے اور دکھانے کی کوشش کرے تو اس کی کھوٹی نیت اسے ہر مقام پر رسوا کرواتی ہے۔ انسان کا اصل جج اس کا ضمیر ہے جو کسی بھی برے کام پر مسلسل ملامت کرتا رہتا ہے اور جوانسان اس کی آواز کو بار بار دبا دیتا ہو، ایک دن جہالت کی ایسی گہرائیوں میں جا گرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں نکال سکتا۔اپنے ضمیر کی آواز کو بار بار سنو اور جب بھی وہ ملامت کرے تو اس بات کو نظر انداز مت کرو۔ دنیا ایک دوڑ میں لگی ہوئی ہے اور ہر ایک کو صرف اپنی فکر ہےایسے میں لوگ دوسروں کو روند کر چلے جاتے ہیں پر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے اور جو ظلم ہم کسی اور پر کرتے ہیں وہ لوٹ کر ہمارے مقدر میں ہی واپس آجاتا ہے۔ کہتے ہیں نہ کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ انسان کو کبھی نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ جیفری اور اس کی بیوی جانتے تھے کہ گملے میں ایک سال سے کوئی پودا نہیں نکلا تھا مگر انہوں نے اس کو پانی دینا نہیں چھوڑا اور ان کی نیکی کا صلہ انہیں ساری دنیا کے سامنے ملا۔ مالی دا کم پانی پانا، پھر پھر مشکاں پاوے مالک دا کم پھلُ پھل لانا، لاوے یا نہ لاوے

اپنا تبصرہ بھیجیں