ملتان(آئی این پی)شاہ محمودقریشی کے بعد سنٹرل جیل ملتان کے حکام نے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کو بھی جمشیددستی سے ملاقات سے روک دیا،سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی بطوراحتجاج سنٹرل جیل کی دیوار کیساتھ کرسی لگاکر بیٹھے رہے۔سنٹرل جیل کے باہرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ پارلیمنٹ رکن قومی اسمبلی کے ساتھ زیادتی کررہی ہے۔ اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق چوہدری امیرحسین نہ بنیں ،ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمشیددستی کو رہاکرائیں۔یہ انتقامی کاروائی ہے کہ ایک منتخب نمائندے کو جیل میں ڈال دیا گیا،انگریز کے کالے پانی والاقانون بھی ایسا نہیں تھا،نوازشریف اور شہبازشریف پر بھیوقت آسکتا ہے۔شہبازشریف رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری کا سختی سے نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ جمشیددستی سے ملاقات ہمارا بھی حق ہے۔جمشیددستی کے ذاتی حقوق کی جنگ لڑنے آیا ہوں،میں یہاں سسٹم بچانے آیا ہوں،جمشید دستی کسی جرم میں نہیں آیا وہ غریبوں کی آوازاٹھاتا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے۔ایسی روایات نہیں ڈالنی چاہیں جس سے کل حکمرانوں کو بھی نقصان پہنچے۔کسی ایم این اے سے قتل بھی ہوجائے تو اسے سیشن میں گرفتار نہیں کیا جاسکتا،جمشیددستی کو اسمبلی سیشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔جمشید دستی سے لاکھ اختلافات ہوں گے لیکن انکی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی پارلیمنٹرین جیل میں گیا ،سب کی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔نوازشریف اور شہبازشریف بھی جیل گئے ان سے بھی ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں