ممتاز مفتی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ آتے ہو ئے قدرت نے مجھ سے کہا تھا کہ مدینہ منورہ مکہ شریف سے مختلف ہے۔” مکہ مکرمہ قانون ہی قانون ہے ۔اور مدینہ منورہ رحمت ہی رحمت ہے۔”قدرت نے وضا حت کی”۔میں پھر بھی نہیں سمجھااس پر قدرت نے مجھے یہ واقعہ سنایا۔ “مکہ معظمہ میں بچوں کو حرم میں داخل ہو نے کی اجازت نہیں،لیکن مسجد نبوی ﷺمیں بچے کھیلیں یا شور مچائیں تو انہیں کو ئی نہیں روکتا۔ پا کستان کا ایک فو جی افسر عمرہ کرنے کےلئے ایک ماہ کی چھٹی پرپر یہاں آ یا،مسجد نبوی میں اس نے دیکھا کہ بچے شور مچا رہے ہیں۔اسے بہت غصہ آ یا کہنے لگا”یہ سراسر بے ادبی ہے۔”اس نے بچوں کو ڈانٹا۔اس پر اس کے ساتھی نے جو مدینہ منورہ کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر تھا نے اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ ڈا نٹے۔افسر نظم و نسق کا متوالا تھا اس نے ساتھی کی ان سنی کر دی۔رات کو اس موضوع پر دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ڈا کٹر نے کہا حضورﷺ یہ پسند نہیں فرما تے کہ بچوں کو ڈانٹا جا ئے”اسی رات افسر نے خواب میں دیکھا ۔ حضور ﷺ خود تشریف لا ئے اور فرمایا۔”اگر آپ مسجد میں بچوں کی موجود گی پسند نہیں کر تے تو مدینہ سے چلے جائیں۔”اگلے روز پا کستان کے فوجی ہیڈ کوارٹر سے یک تار موصول ہواجس میں اس فوجی افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فوری طور پر اپنی ڈیو ٹی پر حاضر ہو نے کا حکم تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں