ایک آدمی بشر حافیؒ کے گاؤں کا رہنے والا تھا، ایک دن وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر جا رہا تھا۔ گدھے نے راستے میں لید کر دی، یہ دیکھ کر گدھے کا مالک رونے لگا۔ کسی نے پوچھا: بھئی! رو کیوں رہے ہو؟ کہنے لگا: میں رو اس لیے رہا ہوں کہ میرا دل کہہ رہا ہے کہ بشر حافیؒ فوت ہو گئے ہیں۔ انہوں نے گدھے والے سے پوچھا: تمہیں کیسے پتہ چلاکہ بشر حافی فوت ہو گئے ہیں؟ گدھے والے نے کہا: میں نے ایک چیز نوٹ کی تھی کہ یہ اللہ کا نیک بندہ ننگے ننگے پاؤں زمین پر چلتا تھا، میرے گدھے نے جب بھی پیشاب یالید کرنی ہوتی تھی وہ ہمیشہ سڑک کے کنارے پر جا کر پیشاب اور لید کرتا تھا، راستے کے درمیان میں نہیں کرتاتھا کہ کہیں اللہ کے اس نیک بندے کے پاؤں نہ ناپاک ہو جائیں۔ آج میرے گدھے نے راستے کے درمیان میں لید کر دی تو میں سمجھ گیا کہ اب وہ بندہ دنیاسے چلا گیا ہے جس کی وجہ سے میراگدھا بھی احتیاط کرتا تھا، چنانچہ جب پتہ کیا تو واقعی لوگ ان کو نہلانے کفنانے کا بندوبست کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ کی قدر دانی دیکھئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی زمین پر ننگے پاؤں چلنے کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے بھی دلوں میں ڈال دیاکہ راستے میں گندگی نہ پھیلاؤ، ایسا نہ ہو کہ نجاست میرے مقبول بندے کے پاؤں پر لگ جائے۔کسی نے خود حضرت بشر حافیؒ سے پوچھا: جی! آپ ننگے پاؤں کیوں چلتے ہیں؟۔۔۔ اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے۔۔۔ وہ جواب میں کہنے لگے: جب میں نے سچی توبہ کی اس وقت میرے پاؤں میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے قرآن مجید میں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اور ہم نے زمین کو فرش بنایا۔‘‘اب جس زمین کو شہنشاہِ حقیقی نے فرش بنایا اس فرش پر جوتے کے ساتھ چلتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے۔ میں اللہ کے بنائے ہوئے فرش پر جوتے کے ساتھ کیسے چلوں۔ ان کی محبت کا یہ عالم تھا۔ یہ وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کھینچا، جن کے لیے محبوب نے اپنی طرف آنے کا راستہ ہموار کر دیا۔<

اپنا تبصرہ بھیجیں