اس کے پاس تو صرف تین یتیم بچیاں ان کے تاریک مقدر اور خود اس کے اپنے ماتھے پر بیوگی کا داغ تھا۔ شوہر کو مرے ہوئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے تاہم شوہر بہت غربت کی حالت میں مرا تھا اس لئے جلد ہی فقر و فاقہ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خاندانی اعتبار سے وہ علوی تھی یعنی سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی اولاد۔ کس سے دست سوال دراز کرتی؟ فاقے پہ فاقے سوچا کہ چلو قاضی شہر کے پاس اس سے امداد کی درخواست کرے قاضی نے معذرت کر دی کہ دفتر کے اوقات ختم

ہو گئے ہیں اس لئے آپ کل آئیں۔نہایت متفکر واپس آئی یعنی ایک رات اور بھی فاقوں کے ساتھ گزارنی پڑے گی۔ یتیم بچیوں نے صبر کا سل سینے پرر کھ لیا اور انتہائی بے چینی سے بھوک کے عالم میں رات ڈھلنے اور سپیدہ سحر نمودار ہونے کا انتظار کرنے لگیں۔ دوسرے دن بھی ماں قاضی شہر کے پاس گئی اور شام کو نامراد لوٹی اور جب تیسرے دن بھی قاضی نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کے باہر نکلوا دیا تو وہ یہ عہد کرتی ہوئی واپس لوٹی کہ اب میں کسی کے دروازے پر نہیں جاؤں گی مر جاؤں گی لیکن کسی کے آگے دست سوال دراز نہ کروں گی۔ بھوک کی وجہ سے بچیاں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھیں آنکھوں میں گڑھے پر گئے تھے اب تو آنسو بھی خشک ہو گئے تھے قاضی سے نا امیدی کے بعد کوئی دروازہ ایسا نہ تھا جہاں سے مراد مل جاتی۔یاس کی گھٹا ٹوپ تاریکی دماغ پر چھا گئی نہ بیٹیوں کو نیند آتی تھی نہ ماں کو سب نے ایک بوریا بچھایا اور مالک الملک کے سامنے بھیک کا ہاتھ پھیلادیا ایسی عاجزی ایسی لجاجت اور ایسے کرب و اضطراب کے ساتھ کہ شاید تھوڑی دیر کے لئے عرش الٰہی بھی کانپ گیا ہو گا۔ پڑوس میں سیدوک نامی ایک نصرانی رہتا تھا اس نے بھی رونے کی آواز سنی اس کے گھر میں فراغت تھی تھوڑا کھانے پینے کا سامان لیا کچھ پیسے لئے اور بیوہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کہا کہ بہن! آپ یہ قبول کر لیں ایک پڑوسی کا پڑوسی پر جو حق ہوتا ہے اس کے تحت لایا ہوں۔ بیوہ نے سامان قبول کر لیا۔ پکایا کھایا اور بچیوں کے ساتھ پڑ کر سو گئی۔ اسی رات قاضی نے خواب میں دیکھا کہ میدان حشر بپا ہے ایک فرشتہ اسے پکڑ کر ایک محل کے پاس لے گیا اور قاضی کو دکھلا کر یہ کہا کہ پہلے یہ محل تیرے لئے بنا تھا اور اب یہ سیدوک نامی نصرانی کو دے دیا گیا ہے کہ اس نے اپنی بیوہ پڑوسن کی مدد کی تھی جسے تو نے دھتکار دیا تھا۔ سیدوک کو جب قاضی کے اس خواب کی اطلاع ملی تو اس نے سوچا کہ اعمال تو میرے اسلامی ہیں اقرار کر کے مسلمان کیوں نہ ہو جاؤں اس طرح وہ قاضی کے محل کا وارث بھی بن گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں