اسلام آباد(آئی این پی)اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے اسلامی ملٹری الائنس کی کسی اسلامی ملک کے خلاف ممکنہ کاروائی کے پیش نظر اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کو پاکستان بلانے کا مطالبہ کردیا ۔ فوجی اتحاد کے دائرہ کار کے بارے میں پانچ اہم سوالات اٹھا دیے گئے ،کیا اسلامی فوجی اتحاد کے ٹی اوآر کو حتمی شکل دی جا چکی ہے؟اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو وہ شرائط کیا ہیں اور انہیں 11اپریل کو کئے ہوئے وعدے کے مطابق سینیٹ کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا اور چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کے مطابق

منظوری سے قبل سینیٹ اور ومی اسمبلی کے سامنے کیوں نہیں پیش کیا گیا؟اگر ان ٹی اوآر کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے تو جنرل راحیل شریف کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت کیوں دی گئی؟اب اتحاد کے اصل مقصد کے سامنے آنے کے بعد کیا حکومت جنرل راحیل شریف کو واپس بلانے پر غور کرے گی؟جنرل راحیل شریف کی اس فوجی اتحاد کے سربراہ کی تقرری کی شرائط کیا ہیں اور کیا ضروری ہو تو انہیں واپس بلایا جا سکتا ہے؟ یہ مطالبہ اور سوالات جمعرات کو سینیٹ اجلاس میں کئے گئے پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ راحیل شریف کو سعودی عرب جانے کی اجازت دینے کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کیا جائے ۔ ’’ریاض امریکہ اسلامک ممالک کانفرنس‘‘کے نتیجے میں اگر یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو قوم کو آگاہ کیا جائے کہ کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہوگا کہ راحیل شریف کو واپس بلایا جائے ۔ وزارت خارجہ اس بات سے بھی آگاہ کرے کہ الائنس کے ٹی اوآرز کے حوالے سے صورتحال بدل گئی تو کیا پاکستان ممکنہ آپیشنز پر غور کررہا ہے اور اگر راحیل شریف واپس نہ آئے تو کیا یہ پاکستان کے لئے دھچکا نہیں ہوگا ، کیا راحیل شریف کو واپس بلایا جا سکتا ہےبلکہ واپس بلایاجانا چاہیے کیونکہ کسی اسلامی ملک کے خلاف کاروائی کے اشارے مل رہے ہیں ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی فوجی اتحاد کی حقیقت اور ان کے دعووں کے درمیان تضادات واضع ہوگئے ہیں پہلے پارلیمنٹ کو یقین دلایا گیا تھا کہ یہ اتحاد صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے ہے اور پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک میں کسی ملک کے ذاتی تنازعات میں کسی بھی ملک کی طرفداری نہیں کرے گا۔ انہوں نے سینیٹ کے 11اپریل کے ریکارڈ کو پڑھا جس میں یہ تحریر تھا کہ وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا تھا کہ مئی کے مہینے میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں اس فوجی اتحاد کے ٹرمز آف ریفرنس کو حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کی رولنگ بھی پڑھ کر سنائی جس میں انہوں نے کہا کہ جب یہ ٹی اوآر حتمی طور پر تیار کی جائیں گی تو کابینہ کی توثیق سے قبل اسے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سامنے رکھا جائے تاکہ دونوں ایوان اس پر تفصیلی بحث کر سکیں۔اس کے بعد ایسی رپورٹیں سامنے آئیں جن میں سعودی حکام کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ یہ فوجی اتحاد صرف دہشتگردی کے خلاف نہیں بلکہ کسی بھی رکن ریاست کے کہنے پر ایسے عسکریت پسندوں اور باغیوں کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا ہے جس سے کسی بھی رکن کو خطرا درپیش ہو۔ اس کے بعد ریاض میں اعلیٰ اسلامک ۔ امریکی سمٹ منعقد ہوئی جس میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک سنہری تلوار کے ساتھ رقص کیا اور اس اتحاد کی بندوقوں کا رخ عسکریت پسندی کی بجائے ایران کی جانب کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سمٹ کے ذریعے ایران کو دہشتگردی کا گڑھ قرار دے کر اس میں ایران کو اسلامی دنیا سے کاٹ کر تنہا کر دیا۔اس سمٹ کے بعد پاکستان کے پڑوسی ایران اور پاکستان کا روایتی اتحادی دوست سعودی عرب ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ اس سے پاکستان کی سلامتی کو ایک نیا خطرہ لاحق ہوگیا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے متذکرہ پانچ سوالات کئے اور کہا کہ ان کے واضح جوابات دئیے جائیں۔دریں اثناء چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے جنرل (ر) راحیل شریف کو پاکستان واپس بلانے کے بارے میں فیس بک پر ہونے والی بحث سے اراکین سینیٹ کو آگاہ کردیا ، گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ نے اراکین کو آگاہ کیا کہ اب تو فیس بک پر بھی زوروشور سے رائے دی جا رہی ہے کہ جنرل (ر)راحیل شریف واپس آجائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں