میرے ایک جاننے والے نے دلچسپ واقعہ سنایا‘ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک مرتبہ حیدرآباد سے کراچی آرہا تھا ‘ حیدرآباد سے کراچی آنے والی بس پر سوار تھا‘تھوڑی دیر بعد کنڈیکٹر اور بس میں سوار ایک نوجوان میں تکرار شروع ہو گئی‘ کنڈیکٹر نے نوجوان سے ڈیڑھ گنا زیادہ کرایہ طلب کیا تھا۔ کنڈیکٹر کا کہنا تھا کہ سی این جی بند ہے لہٰذا بس ڈیزل پر چل رہی ہے اور ڈیزل مہنگا پڑتا ہے چنانچہ زیادہ کرایہ لینا ان کی مجبوری ہے جبکہ نوجوان کا کہنا تھا کہ چونکہ کرائے ڈیزل کے ریٹ کے حساب سے

ہوتے ہیں لہٰذا سی این جی اور پٹرول دونوں غیر متعلقہ چیزیں ہیں۔ قصہ مختصر ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مطلوبہ کرایہ نہ دینے والوں سے اترنے کا مطالبہ کردیا۔ مجھ سمیت پانچ افراد اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ہمیں واپس اڈے پر پہنچادیا جائے تو ہم بس سے اتر جائیں گے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر راضی ہوئے ہی تھے کہ اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے “پڑھے لکھے” لوگوں کو کوسنا شروع کردیا۔معلوم ہوا کہ موصوف کو کراچی پہنچنے کی جلدی ہے اورہماری “خوامخواہ کی تکرار” سے ان کا ٹائم ضائع ہورہا ہے۔ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے بھی حسب توفیق ہمیں برے القاب سے نوازدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ باقی سارے لوگ بھی خاموش ہوگئے اور کنڈیکٹر کو اس کا منہ مانگا کرایہ دینے پر راضی ہو گئے ‘میں اور وہ نوجوان بھی بادل نخواستہ بیٹھ گئے۔ دھیان بدلنے کیلئے اخبار کھولا تو پہلے ہی صفحے پرڈرون حملے کی خبر تھی۔ چند لمحوں میں یہی ڈرون حملہ بس میں سوار سب لوگوں کی زبان پرتھا۔ اچانک اگلی نشست سے ان ہی صاحب کی آواز ابھری جو پڑھے لکھوں کو کوس رہے تھے اور جنہیں کراچی پہنچنے کی جلدی تھی‘ کہنے لگے “بھائیو! ہمارے حکمران بے غیرت ہیں، ورنہ اللہ کے فضل سے ہم کسی امریکہ وغیرہ سے نہیں ڈرتے‘ اگر ہمارے حکمران چاہیں تو ہماری فوج لمحوں میں ان ڈرونوں کوگرا سکتی ہے”۔اس سے پہلے کہ کوئی اور جوابی تبصرہ آتا، نوجوان نے جلے کٹے لہجے میں کہا”جناب جو قوم نہتے کنڈیکٹر کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی، وہ اپنے لیڈروں سے سپر پاور کے سامنے کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتی ہوئی اچھی نہیں لگتی“۔کراچی پہنچنے تک پھر ان صاحب کی آواز نہیں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں