اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان جیسا کپتان پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں آج تک نہیں آیا، یہ واحد کپتان تھے جن کو گھر سے پکڑ کر لا کر کپتانی دی گئی جبکہ باقی کپتانوں کے آگے بورڈ نے ہاتھ تک جوڑے کے چلے جائیں، سینئر سپورٹس تجزیہ کار سکندر بخت کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں عمران خان کو خراج تحسین۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کرکٹر و سپورٹس تجزیہ کار سکندر بخت کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جو سب سے زیادہ

ایڈوانٹیج حاصل رہا وہ یہ تھا کہ ان کو کبھی بھی ڈراپ ہونے کا ڈر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلا شبہ مصباح الحق کی بحیثیت کپتان کامیابیوں کا گراف عمران خان سے زیادہ ہےمگر اس وقت مصباح الحق کو کرکٹ کو خیر آباد کہنے کا کہا جا رہا ہے اور بورڈ حکام ہاتھ جوڑ رہے ہیںمگر عمران خان وہ واحد کپتان تھے جو جب 1987میں کرکٹ چھوڑ کر گھر چلے گئے تھے تو سابق صدر جنرل ضیا الحق نے انہیں گھر سے بلوا کر پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی سونپی اور کہا کہ آپ کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالیں ۔ یہی بات ہے کہ جب ایک کپتان کو یہ پتہ ہو کہ اسے کوئی چھو بھی نہیں سکتا تووہ بہت بڑے بڑے فیصلے کرتا ہےجیسے عمران خان نے ایک میچ دیکھ کر وقار یونس کو قومی ٹیم میں جگہ دی،انضمام سے متاثر ہو کر انہیں قومی ٹیم کا حصہ بنا دیا، وسیم اکرم کو لے آئے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ وہ یہ کہہ دے کہ آپ کس کو لے کر آ گئے اور کیوں لے کر آ گئےکیونکہ سب جانتے تھے کہ عمران خان پاکستان کرکٹ اور قومی ٹیم کو بہتر اور اچھا بنانا چاہتے تھے اور یہ خوبی صرف عمران خان کے علاوہ کسی اور کپتان میں نہیں ۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں سوائے عمران خان کے سب کپتانوں کو ہاتھ جوڑ کر کہا گیا کہ آپ کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں۔سکندر بخت کا کہنا تھا کہ عمران خان کے جاندار اور اچھے فیصلوں کا راز یہ تھا کہ کہ انہیں کسی قسم کا ڈر نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ

کسی لالچ کے تحت اچھے فیصلے کرنا چھوڑتے تھے۔عمران اپنے کھلاڑیوں کو بہت اعتماد اور تحفظ فراہم کرتے تھے، ان کا انداز یہ ہوتا تھا کہ وہ بلے باز کو کہتے تھے کہ یہ پانچ ٹیسٹ کی سیریز ہے اس کے دوران کوئی آپ کو نہیں ہٹا سکتا آپ بہتر کھیلو اور اپنا آپ ثابت کرو ، عمران کے اس روئیے کی بدولت پاکستان کرکٹ کو کئی نامور کھلاڑی میسر آئے جبکہ کچھ کھلاڑی اتنا اچھا کپتان اور مواقع میسرآنے کے باوجود اپنا آپ ثابت نہ کر سکے اور پیچھے رہ گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں