جھیل سیف الملوک کے متعلق رومانوی کہانیاں تو بہت مشہور ہیں جن کا قصہ مختصر کچھ یوں ہے کہ شہزادہ پری کا دیوانہ ہو گیا ,پری نے اسے کہا تھا مجھ تک پہنچنے کیلئے تمھیں موت سے گزر کر آنا ہو گا اور پھر ایک دوریش کی مدد طلب کرنے کو کہا۔شہزادے نے جب درویش سے التجا کی تو اس نے جواب میں کہا تھا’’نا موجود میں موجود کی جستجو مت کرو ‘‘ مگر شہزادے کی ضد اور بے چینی دیکھ کر درویش اس کی مدد کرنے کیلئے رضا مند ہو گئے اور کہا تھا

اگر تم اپنی منزل تک پہنچ گئے تو رہتی دنیا تک تمہاری کہانی یاد رکھی جائے گی اور دنیا بھر سے لوگ وہاں تفریح کو جائیں گے۔ شہزادہ اپنا تخت و تاج چھوڑ کر درویش کے بتائے ہوئے طریقوں اور پری کے دیئے ہوئے گھوڑے پر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ ہزاروں میل کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ گو کے وہ راستوں اور اپنی منزل سے انجان تھا مگر ایک بے زبان جانور کے سہارے پر امید تھا۔ دن مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے اور شہزادہ سفر کی مشکلات جھیلتا رہا پھر وہ مقام آ ن پہنچا جہاں سے آ گے اسے ا کیلے جانا تھا یہ مقام وادی ناران تھا۔ ناران سے آگے جھیل تک کا سفر اس نے اکیلے تہہ کیا بالآخر اس کا گھوڑا جھیل کے پاس پہاڑوں کے دامن میں جا رکا وہاں اسے پہاڑ میں کھو (غار ) دکھائی دی شہزادہ اس میں داخل ہوا تو اسے غیب سے ضرورت کی اشیاء دستیاب ہونے لگیں۔ مگر پری بدیع الجمال کے دیدار کی بے چینی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ پھر چودھویں کی رات کو پری اپنی سہلیوں کے ہمراہ جھیل میں نہانے آ ئی تو اپنی پوشاکیں اتار کر جھیل میں کود پڑیں جس سے جھیل کا نیلا پانی آ گ کی طرح دہکنے لگا اور فضاء خوشبو سے مہک اٹھی۔ شہزادے کی خوشی کی انتہا نہ تھی کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ چکا ہے۔مگر یہ سلسلہ سالوں تک چلتا رہا مگر اس کے ہاتھ کچھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر ایک رات شہزادے کو درویش خواب میں آئے اور اسے بتایا کہ جب وہ نہانے پانی میں اترے تو تم اس کی پوشاک چرا لینا اور کسی صورت واپس نہ کرنا۔

شہزادے نے ایسا ہی کیا تو پری اس کے قابو میں آ گئی اور اسے بتایا کہ دیو سفید میرا دیوانہ ہے وہ ہم دونوں کو مار دے گا۔ شہزادے کے اصرار پر پری نے بھی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ تم سچے ہو جو یہ سب برداشت کر کے یہاں تک آ ن پہنچے۔ پھر وہ ملکہ پر بت میں بنی کھو میں داخل ہو گئے۔ اتنے میں دیو سفید بھی آ ن پہنچا اور پہاڑوں کے پہاڑ اکھاڑھ ڈالے۔ وہ غار اب بھی اپنے پورے طلسماتی وقار کے ساتھ موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں