بیجنگ(آ ئی این پی )نیپال بھارت کے ہاتھ سے صرف نکلا ہی نہیں بلکہ درد سِر بن گیا،دھماکہ خیز صورتحال پر بھارتیوں کے ہوش اُڑ گئے،چینی صنعتی اور کاروباری اداروں کی جانب سے نیپال میں سرمایہ کاری اور تعاون کی تعداد میں تیز ی سے اضافہ ہو رہا ہے ، سرمایہ کاری پانی و بجلی، ہوا بازی،معدنیات، طب سمیت مختلف شعبوں میں کی گئی ہے۔ چاینہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کی بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی

کونسل اور چین میں نیپالی سفارت خانے کے زیر اہتمام نیپال میں سرمایہ کاری کی گول میز کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں چینی صنعتی اور کاروباری اداروں کی جانب سے نیپال میں سرمایہ کاری اور تعاون کی تعداد میں تیز اضافہ ہوتا رہا۔ چین کی بین الاقوامی تجارت کی فروغ کے کونسل کے سربراہ جیانگ زنگ ویئینے کانفرنس میں کہا کہ جنوری دو ہزار سترہ کے آخر تک چینی صنعتی اور کاروباری اداروں کی جانب سے نیپال میں براہ راست سرمایہ کاری کیمالیت پینتیس کروڑ پچاس لاکھ امریکیڈالر ہے۔جس میں تیس سے زائد چینی صنعتی اور کاروباری اداروں نیبڑی سرمایہ کاری کی ہے۔اور یہ سرمایہ کاری پانی و بجلی، ہوا بازی،معدنیات، طب سمیت مختلف شعبوں میں کی گئی ہے۔چین کی نیپال میں سرمایہ کاری سے نہ صرف نیپال میں اقتصادی تنوع اور صنعت کاری کے عمل میں ترقی ہو گی ، بلکہ چینی کاروباری اداروں کو بھیفروغ ملے گا۔ نیپال کے سرکاری اہلکار کے مطابق اس وقت چین نیپال میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاریکے لحاظ سے سب سے بڑا ملک اور تجارت کا دوسرا بڑا ساتھی ہے۔نیپالی حکومت چینی صنعتی اور کاروباری اداروں کی بنیادی تنصیبات، بجلی، معدنیات ، پٹرولیم ،جدید زراعت، سیاحت سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتی ہے۔نیپال میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری پر اب بھارتی رہنماؤں کو گزشتہ چند سالوں میں نیپال پر

لگائی جانیوالی پابندیوں کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں جس پر بھارتی رہنماؤں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے لیکن بات اب اس قدر آگے بڑھ چکی ہے کہ بھارت کے ہاتھ سے گیم نکل گئی ہے ۔بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے مطابق نیپال مستقبل میں بھارت کیلئے ایک اوردرد سِر ثابت ہوگا بھارتی رہنماؤں نے نیپال کے ساتھ تعلقات بگاڑ کراپنے لئے ایک اور مسئلہ کھڑا کرلیا ہے۔دریں اثناء چینی صدر شی چن پھنگ نے گزشتہ روز نیپال کے وزیراعظم پشپا کمال دہال سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونون ممالک کے سربراہان نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کی وسعت پراتفاق کرتے ہوئے باہمی اشتراک سے کام کرنے کا اعادہ کیا۔ صدر شی چن ھنگ نے نیپال اور چین کے تعلقات کو دوستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک دوسرے کے بنیادی حقوق کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ دونوں ممالک کو حکومتی سطح پر پارٹیز کے درمیان اور دیگر معاملات میں تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ چینی صدر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت یہ تعلقات ایک نیا موڑ لے رہے ہیں ۔

دونوں ممالک کو مضبوط سیاسی اعتماد کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک ممالک ایک دوسرے کے دلچسپی کے عوامل اور تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسائل پر مدد کر سکیں ۔ ملاقات میں رابطہ سازی میں تعلقات کے فروغ، آزاد تجارتی معاہدوں ، زراعت ، مصنوعات ، توانائی اور قدرتی آفات کے بعد ہونے والے نقصانات کے ازالے پر اتفاق کیا گیا ۔ ملاقات میں سب سے اہم موضوع بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کی مشترکہ طور پر تعمیر وترقی رہا۔انہوں نے کہا کہ نیپال اور چین کو دوطرفہ سرمایہ کاری اور باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہیے ۔ شی چن پھنگ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت میں تعاون کو فروغ ، ثقافت ، میڈیا اور مقامی تعاون کو بھی بڑھانا چاہیے ۔

چین نیپال کے ساتھ اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہش مند ہے ۔نیپال کے وزیراعظم نے کہا کہ نیپال ون چائنہ پالیسی کا حامی ہے اور نیپال کی سرزمین کو کوئی بھی قوت چین کے خلاف استعمال نہیں کر سکتی ۔ چین ہمارا دوست ہمسایہ ملک ہے ۔ چین نے 2015میں زلزلہ کی آفت کے بعد نیپال کی جس طرح مدد کی ہم اس کے شکرگزار ہیں ۔ نیپال چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی حمایت کرتا ہے ۔نیپال چین کے ساتھ تجارتی تعاون ، ایوی ایشن میں فروغ اور بنیادی ڈھانچہ میں باہمی تعاون کو فروغ دینے میں کوئی شے معنی نہیں ہے ۔ نیپال عالمی سطح پر چین کے مثبت اقدامات کو سراہتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر علاقائی اور عالمی مسائل میں تعاون کا خواہش مند ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں