برازیل کے سب سے بڑے شہر ریو ڈی جینیرو کی کچی آبادیوں میں کسی زمانے میں منشیات کا کاروبار کرنے والی خاتون راکیل ڈے اولیویراکو منشیات کے غیر قانونی تجارت میں ایک اہم مقام حاصل تھا۔ تاہم زندگی کی صعوبتوں اور نشیب و فراز کے بعد اب وہ ایک ناول نگار بن گئی ہیں۔ ایک عشرے تک خود کو منشیات کی لت اور شراب نوشی میں گم رکھنے والی اولیویرا

علاج کے بعد اب ایک صحت مند زندگی بسر کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔برازیل کی ایک کچی آبادی میں پلنے والی راکیل ڈے اولیویرا نے بھوک سے بچنے کے لیے چھ برس کی عمر میں نشہ شروع کر دیا تھا اور گیاہ برس کی عمر میں اسے اپنے تحفظ کے لیے پہلی مرتبہ ایک پستول بھی تھما دیا گیا تھا۔ اسّی کی دہائی میں اولیویرا ریو ڈی جینیرو کی لاروسینیا نامی ایک کچی آبادی میں سرگرم منشیات کے اسمگلر نالڈو کی محبوبہ تھیں۔ ایک پولیس مقابلے میں نالڈو کی ہلاکت کے بعد وہ خود بھی اس غیر قانونی کاروبار سے منسلک ہو گئیں۔ اور ایک بار پھر منشیات، شراب نوشی اور جرائم کی دنیا میں وقت گزارنے لگیں، تاہم شراب نوشی اور منشیات کی عادت نے ان کی زندگی کو تہہ و بالا کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ اپنے محبوب کی ہلاکت کے بعد وہ بہت اکیلی ہو گئی تھیں اور اس غم کو غلط کرنے کی خاطر انہوں نے منشیات خاص طور پر کوکین کا استعمال کچھ زیادہ ہی کر دیا تھا۔ لیکن سن 2005 میں راکیل ڈے اولیویرا کے ایک مخلص دوست نے انہیں معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے اسے منشیات سے جان چھڑانے والے ادارے میں داخل کرادیا، جہاں کئی سالوں تک ڈے اولیورا کو علاج کے ساتھ کتابیں پڑھنے کو دی گئیں، جسکی وجہ سے انہیں ناول، شاعری اور ادب کی دیگر اصناف سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔ اور یوں اسے شاعری، ناول اور کتابوں میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔منشیات کی عادی راکیل کیلئے سماجی بحالی ادارہ سودمند ثابت ہوا۔

طبی اور نفسیاتی بحالی کے اس مرکز میں انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا بلکہ تصنیف ادب کے حوالے سے بھی طبع آزمائی شروع کر دی۔ اولیویرا بتاتی ہیں کہ ان کا بچپن انتہائی کسمپرسی میں گزرا۔ وہ چھ برس کی عمر میں اپنے والد کے ظلم و جبر سے فرار ہوئیں تو وہ ابھی نو برس کی ہی تھیں کہ ان کی نانی نے انہیں پیسوں کے عوض جسم فروشی کے لیے ایک گینگسٹر کے ہاتھ فروخت کر دیا،

جو کئی لڑکیوں کا ’گاڈ فادر‘ قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم ایک راہب نے معجزاتی طور پر مداخلت کی جس کی وجہ سے اولیویرا جسم فروشی سے بچ گئیں۔ اولیویرا کے بقول اس راہب نے اس ’گاڈ فادر‘ سے کہا، ’’یہ لڑکی جسم فروشی نہیں کرے گی بلکہ اسے تم اپنی لے پالک بیٹی بنا لو۔‘‘اولیویرا کے مطابق اس معجزے کے بعد ان کی زندگی میں کچھ بہتری پیدا ہوئی لیکن مسلسل خوف اور بے چینی کی کیفیت ختم نہ ہو سکی۔

اولیویرا کہتی ہیں کہ راہب کی مداخلت کی وجہ سے اس گینگسٹر نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور وہ ابھی صرف گیارہ برس کی ہی تھی کہ انہیں ذاتی سلامتی کے لیے ایک پستول ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ کئی سالوں تک شراب نوشی، منشیات اور گلیمر کی زندگی گزارنے کے بعد 1980ء میں راکیل اولیورا کو جرائم اور منشیات کے بادشاہ نالڈو سے محبت ہوگئی، فلموں اور ناولوں کی طرح زندگی گزارنے والی اولیورا نے نالڈو سے بعد میں شادی بھی کی لیکن ان کی خوشیاں زیادہ عرصہ نہیں چل سکیں اسکا محبوب ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا اور جلد ہی اولیورا ایک بار پھر اکیلے پن کا شکار ہوگئیں۔نالڈو کے ساتھ گزرے اپنے اس تین سالہ دور کو وہ اپنی زندگی کا بہترین وقت قرار دیتی ہیں۔

لیکن نالڈو کی ہلاکت کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر زندگی سے مایوس ہو گئی تھیں۔اولیویرا نے نالڈو کی موت کے بعد اس کا منیشات کا کاروبار تو سنبھال لیا، لیکن شراب اور منشیات کے بہت زیادہ استعمال نے ان کی زندگی کو تباہ کر دیا۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے اولیویرا نے مزید کہا، ’’کوکین نے میرے جذبات کو تسکین دی، وہ تسکین جو صرف میرا شوہر ہی مجھے پیار کرکے دیا کرتا تھا۔

ماضی میں شراب اور منشیات کو اپنے شوہر کی محبت کا نعم البدل سمجھنے والی ڈیاولیورا اب ادب اور کتابوں کو اپنی زندگی کا تمام اثاثہ سمجھتی ہیں اب بطور ادیبہ وہ اپنے نئے جنم سے انتہائی خوش ہیں۔ ان کے بقول اب ادب نے منشیات کی جگہ لے لی ہے۔ انہیں لکھنے میں وہ لطف محسوس ہوتا ہے، جو کبھی انہیں اپنے شوہر کی موجودگی میں ملتا تھا۔ اور ادب ہی ایک ایسی شے ہے، جس نے مجھے زندہ رہنے کی امید دلائی۔

اب لکھنے سے مجھے لطف ملتا ہے۔ اس نے مجھے میرے دکھوں سے فرار کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اولیویرا کہتی ہیں کہ انہیں اپنی زندگی پر کوئی شرمندگی نہیں ہے، ’’میں نے ماضی میں ہر وقت بطور انسان اپنی عظمت کو برقرار رکھا۔ میری زندگی اس سے بدتر بھی ہو سکتی تھی۔اپنے پہلے ناول ” نمبرون” پر تبصرہ کرتے ہوئے اولیویرا نے کہا، ’’یہ میری زندگی کی کہانی ہے۔‘‘ انہوں نے بچپن، لڑکپن، جوانی اور منشیات کے کاروبار کی ملکہ سے لکھاری بننے والے سفر کو ناول کی زینت بنایا ہے۔

وہ ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ وہ ایک اور ناول پر بھی کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے شاعری بھی شروع کی ہے وہ اپنی شاعری کی دو کتابیں بھی منظر عام پر لانا چاہ رہی ہیں۔ وہ ماضی کی تلخ زندگی کو بھلا کر لکھاری کی حیثیت سے مزید آگے بڑھنا چاہتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں