>حضرت سیدنا عفان بن مسلم ؒ حضر ت سیدنا حماد بن سلمہ ؒ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردیوں کے موسم میں زبردست موسلادھار با رش ہوئی ، مسلسل بار ش کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہونے لگی۔حضرت سیدنا حماد بن سلمہ ؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک عبادت گزار عورت اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ ایک پرانے سے گھر میں رہتی تھی۔

جب بارش ہوئی تو ان کے کچے گھر کی چھت ٹپکنے لگی اور با رش کا پانی گھرمیں آنے لگا ،ان غربیوں کے پاس صرف یہ ایک ہی کمرے پر مشتمل گھر تھا۔ اس نیک عورت نے جب دیکھا کہ سردی کی وجہ سے بچے ٹھٹر رہے ہیں او ربار ش کا پانی مسلسل گھر میں گر رہا ہے جبکہ بار ش رکنے کا نام تک نہیں لے رہی۔چنانچہ اس نیک عورت نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے او رعرض گزار ہوئی:’’ اے میرے رحیم وکریم پر ورد گارعزوجل !تورحم اور نرمی فرمانے والا ہے، ہمارے حال زار پر رحم اور نرمی فرما‘‘۔وہ نیک عورت ابھی دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائی تھی کہ فوراً با رش رْک گئی میرا گھر چونکہ اس صالحہ عورت کے گھر سے بالکل متصل تھا۔ میں ا س کی دعا سن رہا تھا جب میں نے دیکھا کہ اس عورت کی دعا سے با رش بند ہوگئی ہے تو میں نے ایک تھیلی میں دس سونے کی اشرفیاں ڈالیں او راس عورت کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔دستک سن کر عورت نے کہا :’’اللہ عزوجل کر ے کہ آنے والا حماد بن سلمہ ؒ ہو۔ ‘‘جب میں نے یہ سنا تو کہا کہ میں حماد بن سلمہ ؒ ہی ہوں۔میں نے تمہاری آواز سنی تھی تم دعا میں اسی طرح کہہ رہی تھی ’’اے نرمی فرمانے واے پروردگار عزوجل نرمی فرما۔‘‘کیا تمہاری یہ دعا مقبول ہوگئی ہے اور اللہ عزوجل نے تم سے کیا نرمی والا معاملہ فرمایا ہے۔وہ نیک عورت بولی:’’ میرے پروردگار عزوجل نے ہم پر اس طر ح نرمی فرمائی کہ بارش رک گئی اور جو پانی ہمارے گھر میں جمع ہوگیا تھا وہ بھی خشک ہوگیا۔

میرے بچے بھی سر دی سے محفو ظ ہوگئے ہیں، انہوں نے گرمائش حاصل کرنے کا بھی اِنتظام کر لیا ہے۔‘‘جب میں نے اس عورت کی یہ باتیں سنیں تو سونے کی اشرفیوں والی تھیلی نکالی اور کہا: ’’ یہ کچھ رقم ہے ،اسے تم اپنی ضروریات میں استعمال کر و‘‘۔

ابھی ہمارے درمیان یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک بچی اچانک ہمارے پاس آئی ، اس نے اون کا پرانا سا کرتا پہنا ہوا تھا جو ایک جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور اس پر پیوند لگے ہوئے تھے۔ ہمارے پاس کر آکر وہ کہنے لگی:’’ اے حماد بن سلمہ ؒ ! کیا آپ یہ دنیاوی دولت دے کر ہمارے اور ہمارے رب عزوجل کے درمیان پر دہ حائل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں ایسی دولت نہیں چاہے جو ہمیں ہمارے رب عزوجل کی بار گاہ سے جُدا کرنے کا سبب بنے‘‘۔

پھر اس نے اپنی والدہ سے کہا :’’ اے امی جان ! جب ہم نے اپنے پر وردگار عزوجل سے اپنی مصیبتو ں کی التجاء کی تو اس نے فوراً ہی دنیاوی دولت ہماری طرف بھجوادی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس دنیا وی دولت کی وجہ سے اپنے مالکِ حقیقی عزوجل کے ذکر سے غافل ہو جائیں اور ہماری توجہ اس سے ہٹ کر کسی اور کی طر ف مبذول ہوجائے۔

‘‘پھر اس لڑکی نے اپنا چہر ہ زمین پر ملنا شروع کیا او رکہنے لگی:’’ اے ہمارے پاک پروردگا رعزوجل !ہمیں تیری عزت و جلا ل کی قسم! ہم کبھی بھی تیرے دَر سے نہیں جائیں گے، ہماری اْمیدیں صرف تجھ سے ہی وابستہ رہیں گی ،ہم تیرے ہی دَر پر پڑے رہیں گے اگرچہ ہمیں دھتکار دیا جائے لیکن ہم پھر بھی تیرے دَر کو نہیں چھوڑ یں گے۔‘‘

پھر اس بچی نے مجھ سے کہا: ’’اللہ عزوجل آپ کو اپنی حِفظ وامان میں رکھے ، برائے کرم! آپ یہ رقم واپس لے جائیں اور جہا ں سے لائے ہیں وہیں رکھ دیں۔ ہمیں اس دولت کی کوئی حاجت نہیں ،ہمیں ہمارا پر وردگار عزوجل کا فی ہے۔وہ ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کریگا۔ ہم اپنی تمام حاجتیں اس پاک پروردگار عزوجل کی بار گاہ میں پیش کرتے ہیں ،وہی ہماری حاجتو ں کو پورا کرنے والا ہے ، وہی تمام جہانوں کا پالنے والا اورساری مخلوق کا حاکم و والی ہے‘

اپنا تبصرہ بھیجیں