>ایک دفعہ دو بہت گہرے دوست صحرا میں سفر کر رہے تھے، راستے میں باتیں کرتے کرتے دونوں میں بحث ہوگئی اور بات اتنی بڑھی کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کے منہ پہ تھپڑ دے مارا۔تھپڑ کھانے والا دوست بہت دکھی ہوا مگر کچھ بولے بغیر اس نے ریت پر لکھا۔آج میرے سب سے اچھے اور گہرے دوست نے میرے منہ پہ تھپڑ مارا۔چلتے چلتے ان کو ایک جھیل نظر آئی۔

دونوں نے نہانے کا ارادہ کیا۔اچانک جس دوست کو تھپڑ پڑا تھا وہ جھیل کے بیچ دلدلی حصہ میں پھنس گیا مگر جس دوست نے تھپڑ مارا تھا اس نے اسے بچا لیا، تب بچنے والے دوست نے پتھر پہ لکھا’’آج میرے سب سے اچھے اور گہرے دوست نے میری زندگی بچا لی‘‘یہ دیکھ کر جس دوست نے تھپڑ مارا تھا اور بعد میں جان بچائی ‘ اس نے پوچھا!جب میں نے تم کو دکھ دیا تو تم نے ریت پر لکھا تھا اور جب جان بچائی تو تم نے پتھر پہ لکھا۔کیوں؟پہلے دوست نے جواب دیا’’جب کوئی آپ کو دکھی کرے یا تکلیف دے تو ہمیشہ اس کی وہ بات ریت پر لکھو تاکہ درگذر کی ہو اسے مٹا دے لیکن جب بھی کوئی آپ کے ساتھ بھلائی کرے توہمیشہ اس کی اچھائی پتھر پہ نقش کرو تاکہ کوئی بھی اسے مٹا نہ سکے۔

ہاتھ یا پاوں سو گئے ہیں؟؟ کوئی بات نہیں۔۔ابھی جگا لیتے ہیں۔۔اپنے سر کو دائیں سے بائیں یا کلاک وائز اور اینٹی کلاک وائز گھمانا شروع کر دیں۔۔چند سیکنڈز کے اندر اندر ہاتھ یا پاوں نیند سے بیدار ہو جائیں گے۔

ہچکیاں آ رہی ہیں؟؟ْ اپنے انگوٹھے اور دوسری انگلی(شہادت کی انگلی کے ساتھ والی) کو اپنی بھنووں (آئی برو) پر رکھیں اور ہلکا سا دبائیں۔۔کچھ دیر ایسا رہنے دیں ہچکی رک جائے گی ۔۔۔ان شاء اللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں