>بہت زمانے کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں میاں بیوی رہتے تھے ، وہ دونوں بہت غریب تھے ، یہاں تک کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن خوش قسمتی سے ان لوگوں کے جھونپڑی نما گھر کے سامنے ایک تالاب تھا جس میں مچھلیاں تھیں ،وہ آدمی روزدو، تین مچھلیاں پکڑ کر لے جاتا اور اس کی بیوی پکالیتی اور وہ دونوں مل کر کھالیتے لیکن وہ آدمی ہر وقت پریشان رہتا تھا کیوں کہ ا سکی بیوی ہمیشہ اس سے لڑتی جھگڑتی تھی

کہ یہاں گاؤں میں رہ کر روز مچھلیاں نہیں کھا سکتی۔لیکن شوہر نے اسے کئی بار سمجھایا کہ اللہ تعالی ٰ جتنا دیتا ہے اسی میں شکرادا کرنا چاہئے لیکن اس کی بیوی پر ان باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ایک دن شوہر بے چارہ ، بے حال تالاب کے کنارے پہنچاتا کہ کچھ مچھلیاں پکڑ کر اپنی اور اپنی بیوی کا پیٹ بھر سکے۔جب اس نے مچھلی پکڑنے کیلئے جال پانی میں ڈالا تو اسے ایسا لگا کہ جال کہیں اٹک گیا ہے تو وہ جال کھینچنے لگا لیکن جال اسے بہت بھاری لگا پھر بھی اس نے جیسے تیسے کر کے جال نکال لیا۔ جب اس نے جال نکالا تو حیران و پریشان رہ گیا کیوں کہ جال میں ایک بڑی عجیب وغریب مچھلی پھنس گئی تھی۔ اس نے حیران ہو کر اپنے دل میں سوچا کہ اتنے بڑے تالاب میں اتنی بڑی مچھلی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ مچھلی اچانک غائب ہوکر ایک پری بن گئی۔ دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوجاتا ہے اور ڈر جاتا ہے۔ اس سے پہلے وہ ڈر سے بھاگ جائے ، پری نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے کچھ نہیں کرے گی بلکہ وہ تو اس کی شکر گزار ہے کہ اس نے پری کو پانی سے آزاد کیا۔ اس نے پری سے پوچھا کہ وہ مچھلی کیسے بنی، تو پری نے اسے کہانی بتائی کہ اسے ایک جادو گرچاہتا تھا اور جادوگر پری سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا لیکن پری نہ تو اس سے شادی کرنا چاہتی تھی اورنہ اس کو پسند کرتی تھی۔ جب یہ بات جادو گر کوپتہ چلی کہ پری اس سے نفرت کرتی ہے تو جادو گر غصے میں آکر پری کو مچھلی بنا کر پانی میں قید کرلیا۔اگر مجھے تم یہاں سے نہ نکالتے تو شاید میں ز ندگی بھر اس پانی میں قید رہتی۔جب یہ سارا واقعہ اس نے سنا تو اس کو پری پر بہت افسوس ہوا،

تب اس نے پری کو اپنی غربت اور لڑا کو بیوی کی داستان سنائی ، تو پری نے اس سے کہا کہ فکرمت کرو، تم نے مجھے پانی سے آزاد کر کے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اس لئے میں تمھاری تین خواہشات پوری کردوں گی اور پری نے اس کو یہ بھی بتا دیا کہ دھیان رکھنا مجھے کوئی غلط خواہش پوری کرنے کو نہ کہنا۔یہ سنتے ہی وہ بہت خوش ہوا اور جلدی سے جا کر اپنی بیوی کو ساری بات بتا دیتا ہے ،

تو اس کی بیوی بھی بہت خوش ہوجاتی ہے اورپری کو دیکھ کر اس کے من میں لالچ جاگ اٹھتی ہے۔پری جب ان سے پہلی خواہش پوچھتی ہے تو میاں صاحب کی بیوی جلدی سے کہتی ہے ہمیں بہت سار ے پیسے چاہئے۔اتنے پیسے کہ ہمیں زندگی بھر کیلئے کافی ہوں گے۔ یہ سن کر پری کہتی ہے کہ تم دونوں اپنے گھر جاؤ اپنی آنکھیں بند کرو، تو وہ دونوں بھاگے بھاگے اپنے گھر جا کر آنکھ بند کر لیتے ہیں ،جب تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں اپنی آنکھیں کھول دیتے ہیں تو بہت خوش ہوجاتے ہیں۔

کیوں کہ پری ان کی پہلی خواہش پوری کر چکی ہوتی ہے لیکن بیوی پھر بھی بہت افسرد ہ ہو کر کہتی ہے کہ ہم نے اس سے صرف پیسے مانگے ہیں ، بہت بڑاشہر والا گھر تونہیں مانگا۔میاں صاحب اس سے کہتا ہے کہ فکرمت کرو کل وہ پری آئے گی ہم اس سے بڑا گھر بھی مانگ لیں گے لیکن بیوی میاں صاحب سے لڑتی ہی نہیں بلکہ اس پری کو برا بھلا کہتی تھی جس نے اس کو اتنے سارے پیسے دیئے ہیں۔میاں اسے بہت سمجھاتا ہے لیکن یہ جانتے ہوئے کہ میر ی بیوی پر میرے سمجھانے کا کوئی اثر نہیں ہوگا ،

ا س لئے وہ چپ ہوگیا۔ دوسرے دن جب پری تالاب کے کنارے پہنچی تو میاں بیوی اس کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔جب بیوی نے پری کو دیکھا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھی اور پری کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہا کہ ہمیں آج ایک بہت بڑا گھر چاہئے۔پری نے پھر وہی بات دہرائی کہ اپنے گھر جا کر آنکھیں بند کر لو ،وہ دونوں جلدی سے گھر جا کر آنکھیں بند کر لیں۔

کچھ دیر بعد آنکھیں کھول دیتے ہیں تو انہوں نے اپنے آپ کو ایک بہت خوب خوبصورت اور بڑے گھر میں پایاجو کہ محل سے کم نہ تھا۔ تیسرے دن جب پری آئی تو کہا کہ تم لوگ اپنی تیسری خواہش بھی بتا دو تا کہ میں اپنی دنیامیں واپس چلی جاؤں۔یہاں صاحب کی بیو ی نے کافی دیر تک سوچا کہ اب کیا مانگوں ، میرے پاس تو سب کچھ ہے۔ میرے پاس تو بہت سارے پیسے اور بہت بڑا گھر ہے اور اب میں پری سے کیا مانگوں۔

کافی دیر سوچ بچار کے بعد اس کے دماغ میں ایک بری خواہش جنم لیتی ہے اور پری سے کہا ہمارے پاس سب کچھ ہے ،آج تم ایک ایسا جادو کرو کہ آسمان کے ستارے آکے ہمیں سجدہ کریں۔یہ سنتے ہی پری کے پر کھل گئے کیوں کہ یہ ایک بری خواہش تھی۔پری نے ان دونوں سے کہا اپنے گھر میں جا کر اپنی آنکھیں بند کر لو دونوں نے گھر جاکر اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ جب دونوں اپنی آنکھیں کھولتے ہیں تو یہ دونوں کیا دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں اپنی وہی پھٹی پرانی جھونپڑی میں پڑے ہیں۔ یہ دیکھ کر میاں صاحب کی بیوی بہت رونے پیٹنے لگی کہ دھوکا ہو گیا۔ بیوی کے چلانے سے ہی اس کے میاں کو یاد آتا ہے کہ پری نے مجھے پہلے سے ہی کہا تھا کہ کوئی بری خواہش مت کرنا۔

جب وہ بات اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تمھاری ہی وجہ سے ہمارے پاس جو بھی تھا وہ بھی نہ رہا۔ یہ سن کر اس کی بیوی کو بہت افسوس ہوتا ہے کہ اس نے لالچ میں آکر بری خواہش کا اظہار کیا۔ اور پری ان دونوں کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور یہ دونوں اپنی بری خواہش کے انجام کی وجہ سے غریب کے غریب رہ جاتے ہیں۔<

اپنا تبصرہ بھیجیں