حاجی صاحب چینی کے بیوپاری تھے، انہوں نے زندگی کا آغاز پانڈی (لوڈر) کی حیثیت سے کیا، تیس برس پہلے انہوں نے چینی کی دس بوریاں ادھار لیں، ایک تھڑے پر رکھیں اور پانڈی سے دکاندار بن گئے، ان کا کاروبار چل نکلا اور وہ 80ء کی دہائی میں پاکستان میں چینی کے سب سے بڑے بیوپاری سمجھے جانے لگے، حاجی صاحب کی دکان سے جس قیمت پر پہلی بوری نکلتی تھی وہ اس دن پورے ملک میں چینی کا ریٹ ہوتاتھا،

ان کا منیجر بوریوں میں نوٹ بھر کر بینک لے جاتاتھا، حاجی صاحب 1990ء میں انتقال کرگئے، ان کے چار بیٹے تھے، وہ اپنے بیٹوں کیلئے بے تحاشہ جائیداد اور دولت چھوڑ کرگئے لیکن آج 16برس بعد ان کے چاروں بیٹے فٹ پاتھ پر کھڑے ہیں، ان کی جیب میں راولپنڈی سے اسلام آبادتک کا کرایہ نہیں ہوتا اور وہ قطار میں لگ کر یوٹیلٹی سٹور سے سستی چینی خریدتے ہیں۔حاجی صاحب اور ان کی اولاد پاکستان کے’’ جینٹک پرابلمز ‘‘کی ایک ادنیٰ سی مثال ہیں۔ ہم لوگوں میں ایک جینیاتی خامی ہے‘ ہماری ایک نسل کا ہنر‘ ترکہ‘ ورثہ اورتجربہ دوسری نسل میں منتقل نہیں ہوتاہے، ہماری ایک نسل بے تحاشہ دولت کماتی ہے جب یہ دولت دوسری یا تیسری نسل تک جاتی ہے تو وہ اسے ضائع کردیتی ہے‘ وہ فقیر ہوجاتی ہے، ایک نسل دنیاکی بہترین صنعت کار، بزنس مین ، مصور، موسیقار، گلوکار اور دانشور ہوتی ہے جبکہ دوسری نسل بانجھ ، ان پڑھ ، عیاش اور نکھٹوہوتی ہے،ہماری ایک نسل بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتی ہے جبکہ دوسری نسل چٹائیوں پر سوتی ہے، ہماری ایک نسل سونے کے نوالے کھاتی ہے جبکہ دوسری نسل ایک ایک لقمے کو ترس جاتی ہے۔ہماری ایک نسل فنکار ہوتی ہے جبکہ دوسری نسل بے ہنر اور بے فن ہوتی ہے،ہماری ایک نسل زمیندار ہوتی ہے جبکہ دوسری نسل فیکٹریوں میں مزدوری کرتی ہے‘ہماری ایک نسل جہازوں میں سفر کرتی ہے جبکہ دوسری نسل ویگنوں میں دھکے کھاتی ہے کیوں؟ یہ ’’کیوں‘‘ اس ملک کا اصل مسئلہ ہے ، اس کیوں میں اس خطے کے تمام مسائل کی جڑیں پیوست ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں