اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ جون 2017 تک گلگت چترال روڈ، رشکئی اقتصادی زون اور سرکلر ریلوے پشاور پر معاہدوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی ۔ وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہاکہ اگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پہلے دن سے اقتصادی راہداری کے

منصوبوں میں اسی طرح سے شامل ہوتے تو اب تک بہت آگے نکل چکے ہوتے، اقتصادی راہداری کی وجہ سے کوئٹہ سے گوادر کی طویل مسافت محض آٹھ گھنٹے تک محدود ہوگئی ہے،وفاق اور صوبوں کو باہم لڑانے کی سازشیں دم توڑ چکیں ہیں۔آج وفاق اور تمام اکائیاں متحد ہو کر ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔چین کی جانب سے قائم کردہ صنعتوں اور نئی مقامی صنعتوں کے لئے خام مال پاکستان ہی سے لیا جائے گا۔پاکستان میں اقتصادی اور صنعتی زونز کے قیام سے ملک علاقائی اور عالمی سطح پر پیداواری مرکز بن کر ابھرے گا۔ جمعہ کو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال سے ملاقات کی ۔ملاقات میں وفاقی وزارت منصوبہ بندی اور صوبائی حکومت کے نمائندے بھی موجود تھے۔ملاقات میں چشمہ پاور پلانٹ، سکی کناری، وارسک کنال اور دیگر منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پرویز خٹک نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کو سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے صوبائی سطح پر کئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کی اقتصادی راہداری منصوبوں میں خصوصی دلچسپی اور کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔اس مو قع پر گفتگو کر تے ہوئے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی

احسن اقبال نے کہاکہ اگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پہلے دن سے اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں اسی طرح سے شامل ہوتے تو اب تک بہت آگے نکل چکے ہوتے۔ جس پرپرویز خٹک نے جوابی شکوہ کیاکہ آپ نے پہلے اس طرح سمجھایا بھی تو نہیں۔ احسن اقبال اور پرویز خٹک نے اتفاق کیاکہ سی پیک کی وجہ سے مختلف علاقے ایک دوسرے سے جڑنا شروع ہو گئے ہیں اور آنے والے وقتوں میں مزید بہتری لائے جائے گی۔جون 2017 تک گلگت چترال روڈ، رشکئی اقتصادی زون اور سرکلر ریلوے پشاور پر معاہدوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی ۔گذشتہ دنوں ہونے والی پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے کانفرنس میں کثیر تعداد میں خیبر پختونخوا حکومت کی نمائندگی نہایت ہی حوصلہ افزا تھی۔

پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت پسماندہ علاقوں کو اہمیت دی جارہی ہے تاکہ تاکہ وہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔وفاق اور صوبوں کو باہم لڑانے کی سازشیں دم توڑ چکیں ہیں۔آج وفاق اور تمام اکائیاں متحد ہو کر ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔چین کی جانب سے قائم کردہ صنعتوں اور نئی مقامی صنعتوں کے لئے خام مال پاکستان ہی سے لیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں