>اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے اپنی ٹیم سے والدشاہ خان،انکل تاز خان اور دوست ساج محمد کو نکالنے بارے پہلی بار زبان کھولتے ہوئے بتایا کہ ان لوگوں کو ٹیم سے نکالنے کی وجہ گھریلو جھگڑا ہر گز نہیں تھا بلکہ ان لوگوں نے مجھے گزشتہ سال مئی میں میکسیکن باکسر کنیلو سے میچ ہارنے کے بعدمجھےچھوڑ دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ

ان لوگوں کا ماننا ہے کہ میرا کیرئیر ختم ہو چکا ہے۔ان سب کو ایک بھاری چیک کی ضرورت تھی اور وہ لے کر یہ الگ ہو گئے۔عامر خان کا کہنا تھا کہ میری ٹیم کے یہ تین افراد میرے پیسوں پر غیر ضروری اخراجات کرتے پھرتے تھے، ایک واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک سرور کے استعمال کرنے پر 8 گرینڈ کا بل موصول ہوا، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ بل میرے آفس میں لگے سرور کا بل ہےجو میری پرانی ای میلز کو محفوظ کرنے کیلئے لگایا تھا جنہیں میں اب دیکھتا بھی نہیں۔میں ایک فائٹر ہوں اور مجھے سرور کی ضرورت نہ تھی، آفس کے نام پر پتہ نہیں مجھ سے کتنا بٹورا گیا ہے مجھے معلوم نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب مئی میں میچ ہارنے کے بعد میں نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تو میری قریبی عزیز اور دوست ساج مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔اپنے دوست ساج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے چھوڑ کے جانے کے بعد میں نے اسے آفر کی کہ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ لے لے جس کے عوض میں اس کو پیسے دیتا رہوں گا اور اس کا خیال بھی رکھوں گا مگر اس نے انکار کر دیا جو میرے لئے کسی تھپڑ سے کم نہ تھا کیونکہ میرے کافی احسانات ساج پر تھے اور میں سمجھتا تھا کہ جیسے میں اس کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیتا رہا ہوں وہ بھی میرا ساتھ دے گا۔میرے مشکل وقت میں

جن لوگوں کو میرے ساتھ ہونا چاہئے تھا انہوں نے مجھے ناکارہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔اگر میں سب کچھ بتانا شروع کروں تو یقیناََ لوگ اس پر روئیں گے ۔عامر خان نے کہا کہ میں ابھی ختم نہیں ہوا میں نے ناکامیوں پر اپنوں کو بدلتے دیکھا جو میرے لئے سبق ہے ۔ میں پھر سے اٹھوں گا اور دوبارہ کامیابی کیلئے کوشش کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں