اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ نیب میں ایک کیس چل رہا ہے اور اس کیس میں سٹیٹ بنک کے گورنر اشرف وتھرا کا نام بھی شامل ہے۔ اشرف وتھرا نے بنک اسلامی کو صرف ایک ہزار روپے میں کسب بنک لے کر دیاجس کی مالیت 6 ارب روپے ہے۔ اس کے بعد اشرف وتھرا نے بنک اسلامی کو 20 ارب روپے کا خلاف قانون قرضہ

دیا جس پر انٹرسٹ کی شرح صفر اعشاریہ صفر ایک تھی۔ یہ قرضہ بنک اسلامی کو اس لئے دیا گیا کہ ان کے پاس بھی بنک چلانے کے پیسے نہیں ہیں۔ بنک اسلامی کے پیچھے مظفر بخاری نے خطرناک انکشافات کئے ہیں۔ رئوف کلاسرا نے کہا کہ کسب بنک KASBکو یہ کہہ کر بنک اسلامی میں ادغام پر مجبور کیا گیا کہ آپ کے پاس بنک چلانے کے پیسے نہیں۔ کسب بنک کو صرف ایک ہزار روپے کے عوض بنک اسلامی کو فروخت کیا گیا اور بنک اسلامی کے پاس بھی خود کو چلانے کیلئے پیسے نہیں تھے اسلئے اسے 20 ارب روپے صرف صفر اعشاریہ صفر ایک کی شرح پر قرضہ دیا۔ بنک اسلامی کے پیچھے حکومت میں بیٹھے ہوئے بہت سے بڑے لوگوں کے نام آ رہے ہیں۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے جس میں سب سے بڑا فراڈ کیا گیا ہے۔ کسب بنک کو سہارا دینے کیلئے سامبا بنک اور چائینز سرمایہ کاروں نے بھی کوششیں کیں لیکن انہیں بھگا دیا گیا اور کسب بنک کو صرف 1 ہزار روپے میں فروخت کرکے بنک اسلامی کے ساتھ اس کا ادغام کر دیا گیا۔ نیب ریفرنس میں اس حوالے سے جو نام آ رہے ہیں ان میں اشرف وتھرا، سید عرفان علی، شوکت زمان، ارشد محمود، ندیم احمد، محمد سلیم، شاہد اشرف، اسد نذیراور عاصم سلیم وغیرہ شامل ہیں۔ اس کیس کی تفتیش میں تانے بانے بہت اوپر جا کر ملتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں