اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )آصف زرداری کی طرف سے نمک حرام ہونے کا طعنہ، شیخ رشید جواب میں پھٹ پڑے۔ آصف زرداری کو اصل تکلیف اے پی سی کی ہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کی نجی ٹی وی سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کو انـٹرویو دیتے ہوئے آصف علی زرداری سے حامد میر نے جب سوال پوچھاکہ شیخ رشید آپ کو نواز شریف کی انشورنس پالیسی

قرار دیتے ہوئے تو آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے شیخ رشید کو گھر کھانے پر بلایا لگتا ہے کھانے میں نمک کم تھا اسی لئے شیخ رشید نے ایسا بیان دیا۔ آصف علی زرداری کے اس بیان کی بابت جب نجی ٹی 92نیوز کے اینکرز اور سینئر صحافی عامر متین نے شیخ رشید سے سوال پوچھا کہ آصف علی زرداری تو آپ کو نمک حرام کہتے ہیں تو شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں آصف علی زرداری کے والد کے انتقال پر ان کے پاس فاتحہ خوانی کیلئے گیا وہاں رخسانہ بنگش بھی موجود تھیں فاتحہ خوانی کے بعد آصف علی زرداری نے کہا کہ کھانا لگائیں تو ہم جو لوگ وہاں موجود تھے انہوں نے کھانا کھایا لیکن آصف علی زرداری کو اصل تکلیف اے پی سی کی ہے جس میں میں نے اور شیرپائو نےصرف کہا کہ اے پی سی میں شامل تمام جماعتیں ملٹری کورٹس کی حمایت کر چکی ہیں اور یہ سب صرف آپ کے سامنےیہ جواب دینے سے گریزاں ہیں۔ شیخ رشید نے بتایا کہ اے پی سی میں میں نے آصف علی زرداری کو کہا کہ ملٹری کورٹس جن کا مسئلہ ہے وہ جانیں اور فوج جانے آپ پانامامہ لیکس،میمو لیکس اور ڈان لیکس پر اپنی بات بتائیں اور نواز شریف سے متعلق اپنی پالیسی واضح کریں ۔ اگر آپ ان کے ساتھ ہیں تو کھل کر ساتھ دیں

یا ان کی مخالفت کریں۔ میں نے آصف علی زرداری کو کہا کہ اگر آپ نے بلاول کو قیادت سونپی ہے تو اس پر سے اپنا سایہ اٹھائیں ۔ آپ کی وجہ سے وہ متاثر ہو رہا ہے۔شیخ رشید نے چیئرمین نیب سے متعلق آصف علی زرداری کے سخت ریمارکس بارے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ کرپٹ لوگ آپس میں ملے ہوئے ہیں انہوں نے پنجابی محاورہ بولتے ہوئے کہا کہ ’’منجاں منجاں دیاں بھینڑاں ہوندیاں نے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر دیا ہے یہ لوگ جمہوریت کے نام پر جونکیں بن چکیں جو اس ملک کا خون چوس رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کسی قیمت پر نواز شریف کو مصیبت میں گرفتار نہیں دیکھنا چاہتے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ میں نے آصف علی زرداری کا ادھار نہیں دینا، نمک کھایا یا نہیں کھایا میں ان کے والد کی وفات

کا افسوس کرنے ان کے پاس گیا تھا جو کہ راولپنڈی کی روایت ہے ، ہمارے شہر میں اگر دہشتگردی واقعات ہوتے ہیں تو ہم ان گھروں میں بھی افسوس اور تعزیت کیلئےجاتے ہیں، ہم روایتی لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھنڈی اور دال مسور جوان لوگوں کے نصیب میں لکھی جا چکی ہے اگر اس میں ہمیں شریک کر لیا تو ان کا پیمانہ یہ ہے کہ اس پر بھی نمک کا طعنہ دے دیا،

ان کے سوچنے کے انداز اور ہمارے سوچنے کے انداز میں فرق ہے جب سیر کی ہانڈی میں سوا سیر چڑھا دیا جائے تو پھر اسی قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ اچھا ہوا میں اے پی سی میں کھانا کھائے بغیر چلا آیا۔ آصف زرداری ملک کے صدر تھے میرے ان سے سیاسی اختلاف تھے میں ان کے والد کا افسوس کرنے گیا، نواز شریف سے سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود ان کے

بھائی کی وفات پر افسوس کرنے گیا۔ نواز شریف آصف علی زرداری سے کئی درجے بہتر ہیں جب میں ان کے بھائی کی وفات پر ان کے پاس افسوس کیلئے گیا تو انہوں نے مجھے کافی دیر تک اٹھنے ہی نہیں دیا اپنے پاس سے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے آصف علی زرداری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ چھوٹے لوگ ہیں جو بڑے گھروں میں چلے گئے ہیں ۔ بنیادی طور پر ان کی

سیاست کی بنیاد ہی بینظیر بھٹو شہید سے شادی تھی جس کو انہوں نے پورا کیش کروایا’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا‘‘ان کی کیا حیثیتیں تھیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت کے دھارے کے ساتھ ہر چیز کو خریدتے اور بیچتے ہیں اور ہر کسی کا مول لگاتے ہیں کیونکہ یہ خود بکائو ہیں جن کا کوئی اصول اور ضابطہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں