>پشاور(آئی این پی )کلکٹر کسٹمز پشاور قربان علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے حکومت پاکستان طورخم بارڈر پر 120 ارب روپے کی لاگت سے جدید کسٹمز سٹیشن قائم کر رہی ہے اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ایکسپورٹرز اور امپوٹرز کو تمام سہولیات ایک چھت کے نیچے فراہم کی جائیں گی۔ طورخم بارڈر پر انفراسٹرکچرراور آٹو میشن سسٹم کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے ۔ 2017ء کے آخر تک اضا خیل

ڈرائی پورٹ آپریشنل کردیا جائے گا ۔اس ماہ 3کروڑ روپے کے ری بیٹس دیئے جائیں گے۔کسٹمز موبائل سکواڈ پشاور شہر کے اندر داخل نہیں ہوگا۔پولیس کو امپورٹ ہونیوالے مال کی چیکنگ کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد افضل کی زیر صدارت سرحد چیمبر ہاؤس میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد اقبال ٗ نائب صدر عابد اللہ خان یوسفزئی ٗ ایڈیشنل کلکٹر کسٹم فضل صمد ٗ ڈپٹی کلکٹرز سلمان یعقوب ٗ ذاکر محمد اور اطہر نوید ٗ سرحد چیمبر کے سابق صدر فواد اسحق ٗ پاک افغان جائنٹ چیمبر کے صدر ضیاء الحق سرحدی ٗ بنوں چیمبر کے صدر عبدالرؤف شہاب ٗ چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نعیم بٹ ٗ راشد اقبال صدیقی ٗ نعمان الحق اور محمد اختر ٗ ملک افتخار احمد اعوان ٗصدر گل ٗ احسان اللہ مہمند ٗ فیض محمد فیضی ٗ شجاع محمد ٗ فیض رسول ٗ سعود انصاری ٗ عمارانصاری اورصنعت و تجارت سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے ۔ سرحد چیمبر کے صدر حاجی محمد افضل نے اپنے خطاب میں ٹیکس محکموں اور بزنس کمیونٹی کے مابین بزنس فرینڈلی ماحول اور اعتماد کی بحالی پر زور دیا اور کہا کہ ایف بی آر کے ماتحت محکمے ٹیکس دہندگان کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کریں ۔ انہوں نے 32 روز کے بعد طورخم بارڈر کھلنے کے

عمل پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور کلکٹرکسٹمز سے درخواست کی کہ وہ کلیئرنس کا عمل تیز کریں تاکہ پاک افغان باہمی تجارت کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے اضا خیل ڈرائی پورٹ کو جلد آپریشنل بنانے سمیت تمام سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہمی پر زور دیا ۔ ا نہوں نے ری بیٹس کی ادائیگیوں کا سلسلہ تیز کرنے ٗ مختلف ڈرائی پورٹس پر ٹیکس کی مختلف شرح چارج کرنے کی بجائے کراچی پورٹ کے مطابق ٹیکس چارج کرنے ٗ ایف بی آر کے آن لائن سسٹم میں بہتری لانے اور طورخم بارڈر پر ایکسپورٹ ہونیوالے مال کی مینول انٹری کی اجازت دینے ٗ پشاور ڈرائی پورٹ سے ایکسپورٹ ہونیوالے مال بانڈڈ کیریئر کے علاوہ لوکل ٹرکوں کے ذریعے ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے ٗ محکمہ انٹی نارکاٹکس فورس کی جانب سے پشاو ر میں چیکنگ کے دوبارہ کراچی میں چیکنگ کے عمل سے ایکسپورٹ ہونیوالے مال کے متاثر ہونے کو روکنے کے لئے ایک بارچیکنگ کا عمل یقینی بنانے اور پشاور شہر کے اندر کسٹمز موبائل سکواڈ کے داخلے پر پابندی عائد کرنے سمیت پشاور ڈرائی پورٹ اور ایئرپورٹ پر گرین چینل کے ذریعے مال کی کلیئرنس کا عمل شروع کرنے سمیت

اہم سفارشات پیش کیں۔ کلکٹر کسٹمز پشاور قربان علی خان نے سرحد چیمبرکی جانب سے پیش کردہ مسائل سے اتفاق کیا اور کہا کہ کسٹمز کلکٹریٹ پشاور بزنس کمیونٹی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گا ۔انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے حکومت پاکستان طورخم بارڈر پر 120 ارب روپے کی لاگت سے جدید کسٹمز سٹیشن قائم کر رہی ہے اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ایکسپورٹرز اور امپوٹرز کو تمام سہولیات ایک چھت کے نیچے فراہم کی جائیں گی۔ طورخم بارڈر پر انفراسٹرکچرراور آٹو میشن سسٹم کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے ۔ 2017ء کے آخر تک اضا خیل ڈرائی پورٹ آپریشنل کردیا جائے گا ۔

اس ماہ 3کروڑ روپے کے ری بیٹس دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز موبائل سکواڈ پشاور شہر کے اندر داخل نہیں ہوگااور پولیس کو امپورٹ ہونیوالے مال کی چیکنگ کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ طورخم کے راستے افغانستان تجارتی حجم میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال 126 ارب روپے کی ایکسپورٹ ہوئی جبکہ اس سال 125 ارب روپے کی ایکسپورٹ ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں 2 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بارڈ ر مینجمنٹ کی وجہ سے ایکسپورٹ میں تھوڑا بہت فرق پڑا ہے لیکن بارڈر مینجمنٹ کی وجہ سے ملک اور قوم کو بہت فائدہ ملا ہے ۔اس موقع پر سرحد چیمبر کے ممبران کی جانب سے بعض اہم مسائل پیش کئے گئے جن کے حل کیلئے کلکٹر کسٹمز نے یقین دہانی کرائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں