بہلول ایک دن بازار جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے۔؟ بولے: لوگوں کی اللہ کے ساتھ صلح کرانے جا رہا ہوں۔ذرا دیر کو جو واپس ہوئے تو انہی صاحب نے سوال داغا: ہاں جی بہلول میاں۔!لوگوں کی اللہ کے ساتھ صلح ہوئی یا نہیں۔؟ بہلول نے فرمایا’’اللہ مان گیا ہے اور صلح کے لئے راضی ہے لیکن لوگ نہیں مان رہے‘‘ (دنیا کے جھمیلوں میں لگے پڑے ہیں)۔اگلے

دن بہلول قبرستان کی طرف جا رہے تھے۔کسی نے پوچھا: بہلول کدھر کا قصد ہے۔؟ بولے: لوگوں کی اللہ کے ساتھ صلح کرانے جا رہا ہوں۔پھر جب قبرستان سے واپس آئے تو پوچھا گیا: ہاں جناب! صلح ہوئی یا نہیں۔؟بہلول نے فرمایا’’اب لوگ مان گئے ہیں اور صلح کے لئے راضی ہیں، لیکن اللہ نہیں مان رہا‘‘ (حقیقت دیکھنے کے بعد لوگ پچھتا رہے ہیں لیکن توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں