حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ ’’طاقت، شہرت اور اختیار ملنے سے لوگ بدلتے نہیں ہیں بل کہ بے نقاب ہوجاتے ہیں۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ انسان کی اصلیت، اُس کے خاندانی پس منظر، کردار، سمجھ بوجھ کا پتا دو قسم کے حالات میں چلتا ہے، ایک وہ جب انسان کو ہر قسم کی سہولتیں اور آرام میسر ہو، دوسرا وہ جب انسانی انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہو۔ تاریخ ایسے لوگوں کے قصوں اور کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جنھوں نے ذرا سی طاقت پانے پر خود کو خدا سمجھنے میں بھی دیر نہیں لگائی جب کہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کی بھی ہر دور میں کوئی کمی نہیں رہی جو اعلیٰ منصب پر پہنچ کر بھی انسان دوست سمجھتے ہیں اور انسانیت کے لیے کام کرنا اولین ترجیح جانتے ہیں، ایسے خوش نصیب لوگوں میں یہ خوبی یا صلاحیت قدرت کی طرف سے ملتی ہے کہ وہ اپنے اقتدار، اختیار اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کریں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کو دنیا بھر میں بلاامتیاز رنگ و نسل پسندیدگی ملتی ہے اور اُن کا نام بھی ہر جگہ اچھے الفاظ میں لیا جاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک خوش نصیب کینیڈا کے جواں سال وزیراعظم جسٹن ٹروڈو (Justin Trudeau) ہیں۔
25 دسمبر 1971 کو جنم لینے والے جسٹن ٹروڈو کی عالمی شناخت تو یہ ہے کہ وہ کینیڈا کے وزیراعظم ہیں لیکن عالمی سطح پر اُن کو جو پذیرائی، پسندیدگی اور ستائش ملی ہے اور مل رہی ہے ، وہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے معاملے پر وہ موقف اختیار کیا جو اصولوں، انسان دوستی اور ہم دردی پر مشتمل ہے۔ انھوں نے 43 سال کی عمر میں وزارت عظمیٰ سنبھال کر کینیڈا کے دوسرے کم عمر ترین وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا، اُن سے قبل جو کلارک 39 سال کی عمر میں وزیراعظم بن چکے ہیں۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کی لہر نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو بھی احساس عدم تحفظ کا شکار کررکھا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں کی تو بات ہی کیا کی جائے، وہاں تو ہر دن کی کہانی کسی نہ کسی دھماکے، دہشت گردی کی واردات یا کسی اور بہیمانہ واردات پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن اب تو ترقی یافتہ ملکوں میں بھی آئے دن دہشت گردی ہورہی ہے۔ ایسے میں حکم راں اپنے اپنے عوام کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن کوششیں کرتے ہیں اور کررہے ہیں، ہاں یہ الگ بات ہے کہ بہت سے ممالک دہشت گردی سے بچاؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کو مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا ذریعہ بنانے سے نہیں ہچکچاتے جس کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ’’شاہی فرمان ‘‘ کے ذریعے 7 اسلامی ممالک کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ اس ایگزیکٹیو آرڈر کے آتے ہی دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ امریکا میں بھی امریکی شہریوں نے شدید احتجاج کیا، جس کا سلسلہ جاری ہے، ہر کوئی اس ’’ٹرمپ آرڈر ‘‘ کو غیرانسانی کہہ رہا ہے اور ناانصافی سے تعبیر کررہا ہے۔
عالمی سطح پر دہشت گردی کی مسلسل وارداتوں اور خطرات کے باوجود کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی کینیڈا آمد پر تاحال کوئی قدغن نہیں لگائی، عالمی سیاست کے ماہرین کے مطابق امریکا اور دوسری طاقتوں کا کینیڈا پر بھی دباؤ تھا کہ وہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائے لیکن جسٹن ٹروڈو نے دوسروں کی بات ماننے کے بجائے وہ کیا جو اُن کی مرضی تھی یعنی کہ ٹروڈو نے تارکین وطن اور پناہ گزینوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں اپنے امیگریشن نظام پر بھروسا ہے، ہم ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہو۔ ہمارے دروازے تارکین وطن اور اُن لوگوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں جو ہمارے پاس تحفظ کی امیدیں لے کر آرہے ہیں۔
ہم سب لوگوں کو قبول کریں گے چاہے اس کے بدلے میں ہمیں لوگوں کی ناراضی یا مخالفت ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔ ہم ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں آنے سے کبھی نہیں روکیں گے جو جنگ کے خوف، احساس عدم تحفظ، خانہ جنگی یا کسی دوسری مشکل کی وجہ سے پناہ کے لیے ہمارے پاس آئیں گے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا نسل سے ہو، اُن کے کینیڈا میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔‘‘ جب امریکی حکومت نے چند روز قبل یہ اعلان کیا کہ وہ ملک سے تقریباً 10 لاکھ تارکین وطن کو بے دخل کردے گی تو اس پر بھی جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ ’’ہم امریکا سے نکالے گئے تمام افراد کو کینیڈا میں خوش آمدید کہیں گے۔‘‘
آج کل عالمی حالات و واقعات کی روشنی میں وزیراعظم کینیڈا کے یہ خیالات اُن کے ایک بڑا لیڈر ہونے کی بڑی دلیل ہے، ایسا لیڈر جو انسان دوست بھی ہے، دوراندیش بھی اور جسے اپنی حکومت کے ہر محکمے پر بھرپور اعتماد ہے۔ جسٹن ٹروڈو اُن خوش نصیب حکمرانوں میں سے ایک ہیں جنھیں اپنے عوام کی بے حد محبت، اعتماد اور حمایت حاصل ہے جس کی بنیادی وجہ اُن کی پالیسیاں، اصولی موقف اور عوام دوست ہونا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق جسٹن ٹروڈو کی حکومت اب تک کم ازکم 40 ہزار پناہ گزینوں کو گلے لگاچکی ہے جن میں سے اکثریت شام کے باشندوں کی ہے جو جنگ میں گھرے ملک سے پناہ کے لیے کینیڈا آئے۔
قارئین کو جسٹن ٹروڈو کی زندگی کے حوالے سے کچھ باتیں بتاتے چلیں جو یقینی طور پر دل چسپی سے خالی نہیں ہوں گی:
٭ لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے جسٹن ٹروڈو کے والد بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں ۔ پیئر ایلیٹ ٹروڈو Pierre Elliot Trudeau نے 1968 سے 1979 اور پھر 1980 سے 1984 تک کینیڈا کے وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
٭ویسے تو جسٹن ٹروڈو ایک سمجھ دار سیاسی راہ نما کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ انھوں نے مستحقین کی امداد کے لیے ہونے والے کئی باکسنگ مقابلوں میں بھی حصہ لیا ہے۔
٭وزیراعظم بننے سے قبل وہ بطور استاد ریاضی، ڈراما اور فرنچ پڑھایا کرتے تھے۔ پہلے وہ اپنے شاگردوں کو پڑھاتے تھے، اب بطور وزیراعظم وہ اپنے اقدامات اور فیصلوں سے دنیا بھر کے راہ نماؤں کو انسان دوستی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔
٭ وہ کینیڈا کے پہلے وزیراعظم ہیں جس کی پیدائش دارالحکومت اوٹاوا میں ہوئی۔ ٭وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی جسٹن ٹروڈو نے اپنے والد کی سرکاری میز کو دوبارہ اپنے دفتر میں رکھوایا۔ اس میز پر پیئر ٹروڈو تقریباً 16 سال حکومتی امور انجام دیتے رہے۔
٭وزیراعظم منتخب ہونے کے فوری بعد جسٹن ٹروڈو نے اپنے ابتدائی گھنٹے بس اسٹاپس اور سب ویز پر عوام سے ملاقات کرنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے میں گزارے۔
٭ وزیراعظم ایسے کام نہیں کرتے لیکن جسٹس ٹروڈو نے شامی مہاجرین کی آمد کے موقع پر ایئرپورٹ پر جاکر اُن کا حال احوال پوچھا۔ آج کل کے وی آئی پی کلچر میں ایسا ہونا خواب ہی لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں