اسلام آباد(نیوزڈیسک)سیاسی شطرنج پر بازی اُلٹ گئی، ن لیگ اور تحریک انصاف کے مشترکہ اقدام پر دیگر سیاسی جماعتیں ششدر، تفصیلات کے مطابق فوجی عدالتوں کی بحالی سے متعلق تئیسویں آئینی ترمیم کے لئے حکمران جماعت مسلم لیگ اور تحریک انصاف سب سے زیادہ متحرک نظر آرہی ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کے معاملے میں جس قدر اتفاق مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے موقف میں نظر آتا ہے وہ

دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت بہت زیادہ ہے ،یہاں تک کہ صورتحال ایسی لگ رہی ہے جس میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن ایک جانب جبلکہ دوسری اہم سیاسی جماعتیں دوسری جانب نظر آرہی ہیں معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں 23 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرنے کے موقع پر زیادہ سے زیادہ اپنے اراکین کی حاضری کو یقینی بنانے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حکومت کے مجوزہ بل کی مخالفت کررہی ہے جبکہ احتجاج کے طور پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی بل کو منظوری کے لیے ایوان بالا میں پیش کیے جانے کے وقت ایوان کی صدارت نہیں کریں گے۔ فوجی عدالتوں کے مخالف چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کو اس ان عدالتوں سے متعلق آئینی ترمیم کے بل نے امتحان میں ڈال دیاہے، بل کو منظوری کے لیے ایوان بالا میں پیش کیے جانے کے وقت میاں رضا ربانیایوان بالاکے اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے جب کہ دہشت گردی کے معاملے کو صرف مسلک مزہب اور فرقہ تک محدود کرنے پر جماعت اسلامی پاکستان اور جمعیت علماء اسلام (ف) دونوں بل میں ترامیم لائیں گی اکثریت کی طرف سے ان کو پزیرائی نہ ملنے پر ترمیم کے حق میں رائے شماری کے وقت ہی ہنگامی طور پر مخالفت کی حکمت ظے کی جائے گی غیرجانبدار رہنے یا بائیکاٹ کرنے دونوں آپشنز پر غور کیا جائے گا اس ترمیم کی

منظوری کے موقع پر سینیٹ میں غیرمعمولی صورتحال متوقع ہیخیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے 17 مارچ کو سینیٹ اجلاس کی کارروائی چلانے کے دوران فوجی عدالتوں کی دوسال کی بحالی کے لئے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے اس بارے آئینی ترمیم کے خلاف سخت ریمارکس بھی دیئے اورخدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ معاملہ 2019 سے بھی آگے جا سکتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ

رضا ربانی فوجی عدالتوں کے سخت مخالف رہے ہیں، 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام کے وقت آبدیدہ ہوتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دینے پر شرمندہ ہیں، وہ گزشتہ 12 سال سے سینیٹ میں ہیں اور اپنے ضمیر کے خلاف پہلی بار ووٹ دیا۔رپورٹس کے مطابق اس آئینی ترمیم کے واپس ایوان بالا میں پیش ہونے کے موقع پر میاں رضا ربانی کرسی صدارت چھوڑ دیں گے اور فوجی عدالتوں کی مدت میں مزیددوسالوں

کی توسیع کی آئینی ترمیم آنے کے موقع پر ڈپٹی چیرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری یا پینل آف پیرزائینڈنگ افسران کے رکن کی جانب سے اجلاس کی صدارت متوقع ہے ادھر حکومتی چیف وہیپ نے پارلیمنٹ میں پارٹی پوزیشن کی رپورٹ بھی تیار کر لی ہے ۔قومی اسمبلی میں کل 342 اراکین ہیں، بل کی منظوری کے لیے حکومت کو 228 ووٹوں یعنی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جب کہ سینیٹ کے 104 اراکین میں سے

حکومت کو 70 سینیٹرز کی حمایت درکار ہوگی اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی حکومت کے ساتھ مفاہمت کے نتیجہ میں قومی اسمبلی سینیٹ میں ترمیم کو بغیر کسی مشکلات کا سامنا کئے بغیر منظور کرلیا جائے گا دینی جماعتوں کی بھی پارلیمینٹ میں نمائندگی ہے اس رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں وفاقی حکمران جماعت کے 188 اراکین ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کے 47، تحریک انصاف کے 33 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

کے 24 اراکین ہیں۔سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے 27، حکمران جماعت کے 26، تحریک انصاف کے 7 اور ایم کیو ایم کے 8 قانون ساز موجود ہیں اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے بھی دونوں ایوانوں میں نمائندگی ہے دینی جماعتیں بل میں ترامیم لائیں گی اکثریت کی طرف سے ان کو پزیرائی نہ ملنے پر ترمیم کے حق میں رائے شماری کے وقت ہی ہنگامی طور پر یہ جماعتیں مخالفت کی حکمت ظے کریں

گی ان میں ایوان میں غیرجانبدار رہنے یا بائیکاٹ کرنے دونوں آپشنز پر غور کیا جائے گا دینی جماعتوں کی طرف سے ترامیم کا ایجنڈا دے دیا گیا ہے ۔ حکومت کو بل کی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں میں حزب اختلاف کی ضرورت پڑے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں