اس قصے کی ابتداء1964 سے ہوئی جب کارل لوک نامی ایک شخص کے گھر میں رات کے وقت تین چور گھس آئے، کال لوک کو ان کی موجودگی کا پتہ چلا تو اس نے اپنے ذاتی دفاع کیلئے آٹو میٹک رائفل سے ان تینوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔لیکن بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہ تینوں چور آپس میں سگے بھائی اور کارل لوک کے ہمسائے تھے جن کے ساتھ اکثر کارل لوک کا اختلاف بلکہ جھگڑا رہتا تھا۔

بعد میں یہ خبر پھیل گئی کہ کارل لوک نے ان تینوں بھائیوں کو اپنے گھر میں بہانے سے بلا کر قتل کیا اور معاملے کو چوری کا روپ دیا تاکہ پولیس اسے ذاتی دفاع قرار کا معاملہ سمجھے۔ کارل کو جیسے ہی پتہ چلا کہ معاملہ الٹ کر خود اس کی گردن کے گرد پھانسی کا پھندا بن گیا ہے تو کارل روپوش ہوگیا۔ اسے ڈھونڈھنے کی ہر قسم کی کوششیں بے سود رہیں اور کارل کوئی پتہ نا چل سکا۔کیا آپ جانتے ہیں ہیں کہ کارل کہاں جا کر چھپا تھا۔ جی، خود اپنے ہی گھر کے ایک چھوٹے سے تہہ خانے میں جس کا کل رقبہ دو میٹر ضرب ایک میٹر سے زیادہ نہیں تھا۔ کارل نے پھانسی سے بچنے کیلئے اپنی بیوی سے بھی اس بات کا عہد لیا کہ وہ اس بارے میں کسی سے ذکر نہیں کرے گی۔ بلکہ یہ خبر راز ہی رہے وہ اس بات کا اپنے بچوں سے بھی ذکر نہیں کرے گی۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ کارل کا بیوی کا کچھ ہی مہینوں کے بعد انتقال ہوگیا۔ کارل کے بچے اپنے باپ کی موجودگی سے بے خبر اور یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کا باپ بہت عرصہ پہلے مر گیا تھا بڑے ہو گئے۔ اور اس طرح کارل اپنی ہی تیار کی ہوئی قبر میں سینتیس سال تک زندہ دفن رہا۔اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ بعد میں اس مکان میں مختلف وقتوں میں تین مختلف خاندان آ کر رہتے رہے مگر کسی نے بھی کارل کی موجودگی کو محسوس نہیں کیا۔ اس سارے عرصہ میں کارل رات کو اپنی پناہ گاہ سے باہر نکل کر کچھ کھاتا پیتا اور دوبارہ تہہ خانے کو اچھی طرح سے بند کر کے قید ہوجاتا۔

بعد میں اس تنگ و تاریک گھٹن والی اور گرد و غبار سے آلودہ سیلن زدہ جگہ میں رہ رہ کر کارل دمے کے مرض کا شکار ہو گیا۔ اب مسلسل کھانستے رہنا اس کی مجبوری بن گئی۔ ایک رات کو گھر کے مالک نے اپنے مکان میں زیر زمین کھانسی کی آوازیں آنے کی وجہ سے پولیس کو بلا لیا جنہوں نے آواز کا تعاقب کرتے ہوئے کارل کو پا لیا، کارل اور پولیس کے ساتھ یہ مکالمہ پیش آیا؛کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو؟میرا نام کارل لوک ہے اور میں یہاں گزشتہ سینتیس سالوں سے رہ رہا ہوں (ساتھ ہی اس کے اپنے اس طرح چھپ کر رہنے کا سبب بتایا)۔یا الٰہی، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہاری روپوشی کے بعد کیا ہو تھا ؟نہیں معلوم، کیا ہوا تھا؟ان تینوں بھائیوں کی ماں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے بیٹوں نے تمہارے گھر میں چوری کرنے کا منصوبہ خود اس کے سامنے بنایا تھا۔ اور اس طرح عدالت نے تمہیں فوری طور پر بری کرنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔<

اپنا تبصرہ بھیجیں